پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار کے قریب یادگار شہیداں چوک پر خود کش بم دھماکا ہوا ہے، بم دھماکے میں ڈی ایس پی سٹی اور جماعت اسلامی کے مقامی رہنما سمیت تئیس افراد جاں بحق اور ستائیس زخمی ہو گئے۔ سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور نے آج نیوز سے بات چیت کے دوران تئیس افراد کے جاں بحق ہونے اور ستائیس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
وزیر اطلاعات سرحد میاں افتخار کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا خود کش تھا۔ میاں افتخار نے بتایا کہ پولیس وین میں سوار ہو رہی تھی کہ ایک لڑکے نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ ڈی سی او آفس کے ذرائع کے مطابق خودکش حملہ قصہ خوانی بازار میں پولیس موبائل پر ہوا۔
ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق دھماکا جماعت اسلامی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف نکالی جانے والی احتجاجی ریلی میں ہوا۔ زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر جماعت اسلامی کے کارکنان شامل ہیں۔ خودکش حملے میں ڈی ایس پی سٹی گلفت حسین، جماعت اسلامی کے مقامی رہنما حاجی دوست محمد سمیت بائیس افراد جاں بحق جبکہ جماعت اسلامی کے سابق رکن قومی اسمبلی شبیر احمد سمیت تیس افراد زخمی ہوئے۔
جاں بحق و زخمی ہونے والے افراد کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکے سے متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
...............
/152