16 جون 2010 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزارت خارجہ کےترجمان نے کہا کہ این پی ٹی معاھدہ قوموں اور خود مختار ملکوں کے حقوق کی ضمانت نہيں دیتاہے اور اس سے ایٹمی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔

 رامین مہمان پرست نے تہران ایٹمی سکیورٹی کانفرنس کے موقع پرکہا کہ تہران کانفرنس ایسے موقع پرمنعقد ہورہی ہے جبکہ دنیا کے مختلف ممالک مغربی ملکوں کی امتیازی پالیسوں سے نالاں ہيں۔ انہوں نے کہا کہ این پی ٹی معاھدہ کو چالیس برس ہورہےہیں لیکن ایٹمی طاقتوں نے ترک اسلحہ کے سلسلےمیں کوئي موثر قدم نہیں اٹھایا ہے بلکہ ان کےاقدامات کا نتیجہ یہ نکلا ہےکہ آج ان ملکوں میں بعض کے پاس  دس ہزار ایٹمی وارہیڈس موجود ہیں اور وہ بڑی بے شرمی سے دوسری قوموں کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی بھی دیتےہیں۔ ادھر آئي اے ای اے میں ایران کے نمایندے علی اصغر سلطانیہ نے کہا ہےکہ تہران کانفرنس ایٹمی ترک اسلحہ کے سلسلےمیں ایران کے قومی اورسیاسی عزم کی غماز ہے۔ 

.............

/110