16 جون 2010 - 19:30

کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکے کے نتیجہ میں دس سے زائد افراد کی شہادت پر ملک بھر میں احتجاجی سلسلہ جاری ہو گیا.

کل مجلس وحدت مسلمین کراچی کی جانب سے بعد نماز مغربین مسجد شاہ خراسان سے احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی میں ہزاروں عزاداران سید الشہدا امام حسین علیہ السلام نے شرکت کی ریلی میں نوجوانوں اور بچوں کے علاوہ بزرگوں کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی.
مجلس وحدت مسلمین کراچی کی اپیل پر ہزاروں شیعان حیدر کرار نے شاہراہ پاکستان پر احتجاجی دھرنادیا اور کوئٹہ میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے نتیجہ میں معروف شیعہ رہنما اور بلوچستان شیعہ کانفرنس کے رہنما اشرف زیدی کے فرزند ارشد زیدی سمیت دس افراد کی بم دھماکے میں شہادت پر احتجاجی ریلی نکالی اور سڑک کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا۔
شرکائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عباس وزیری اور مولانا منور علی نقوی نے کہا کہ ملت جعفریہ کی تاریخ شہادتوں سے سر شار ہے اور ہم شہادتوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں. 1
علمائے کرام کا کہنا تھا کہ ملت جعفریہ نے ہمیشہ اسلام کی سر بلندی اور بقاء کے لئے قربانی پیش کی ہے اور اسی طرح مملکت خداد پاکستان کی بقاء اور حفاظت کے لئے بھی ہمیشہ قربانیاں دیتی آئی ہے ،ان کاکہنا تھا کہ دشمن اس بات کو ہماری کمزوری نہ سمجھے.
علمائے کرام نے شرکائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ شہادت کا درس ہمیں ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام سے ملا ہے کہ ہمیشہ ظالم و جابر کے سامنے سر اٹھا کر رہواور جب دین و ملک و ملت پر کوئی برا وقت آن پرے تو جانوں کا نذرانہ دینے سے قاصر مت رہو۔
علمائے کرام نے کہا کہ حکومت کو چاہئیے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف دائرہ کار تنگ کرے اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں بشمول سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور طالبان کے خلاف کاروائی عمل میں لائے اور ملت جعفریہ کو تحفظ فراہم کرے.
انھوں نے کہا کہ کوئٹہ میں گذشتہ پانچ سالوں سے سینکڑوں شیعہ عمائدین اور نوجوانوں کو شہید کیا جا چکا ہے، لیکن حکومت تاحال کسی بھی بڑے دہشت گرد گروہ کو پکڑنے اور اس کی سر کوبی کرنے میں ناکام نظر آئی ہے۔
انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شیعہ عمائدین کے قاتلوں کے خلاف فی الفور کاروائی کی جائے ورنہ ملت جعفریہ ملک بھر میں سراپا احتجاج بن جائے گی۔
اس موقع پر مظاہرین نے لبیک یا حسین علیہ السلام، شہادت سعادت، شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے، فرقہ واریت مردہ باد، امریکہ مردہ باد اور اسرائیل نامنظور کے نعرے بھی بلند کئے، جبکہ مظاہرین نے ہاتھوں میں پرچم بھی اٹھا رکھے تھے جن پر یا عباس علیہ السلام،یاحسین علیہ السلام اور یا فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا جیسی عبارتیں درج تھیں۔
شرکائے ریلی نے نماش چورنگی پر دو گھنٹوں سے زائد مدت تک علامتی دھرنا دیا بعد ازاں ریلی کی صورت میں احتجاجاً ماتم کرتے ہوئے امام بارگاہ علی رضا علیہ السلام پہنچ کر پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔