16 جون 2010 - 19:30

پانچ جمع ایک گروپ کے ملکوں نے نیویارک میں ایک اور نشست کی ہے ۔ یہ نشست بھی ناکام رہی ہے ۔ اس نشست میں جو تین گھنٹوں تک جاری رہی ایران کے ایٹمی پروگرام کا مقابلہ کرنے کی راہوں کا جائزہ لیاگیا۔

یاد رہے امریکہ، برطانیہ فرانس اور جرمنی ایران پرپابندیان لگانے کے خواہاں ہیں جبکہ روس اور چین کا کہنا ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے کو مذاکرات سے حل کیا جائے۔ ادھر اقوام متحدہ میں روس کے نمایندے ان مذاکرات کے بارےمیں کوئي نظر نہيں دی بلکہ کہا ہےکہ ایران کےساتھ ایٹمی معاملے پرمذاکرات جاری رہنے چاہئيں ۔ ادھر فرانس کے نمایندے نے بھی کہا کہ پانچ جمع ايک گروپ نے مذاکرات جاری رکھنے پراتفاق کیاہے ۔ انہوں نے اس سوال کا جواب نہيں دیا کہ کیا ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام امن عالم کے لئے خطرہ ہے یا پھر اسرائيل کے ایٹمی ہتھیار خطرہ ہیں ۔ ادھر ترکی کے وزیراعظم نے پانچ جمع ایک گروپ کے موقف پرتنقید کرتےہوئے کہا ہے کہ یہ گروپ یکطرفہ کام کررہاہے اور سلامتی کونسل کے دس ارکان کو ایران کے ایٹمی پروگرام کےتعلق سےکئےجانےوالے مذاکرات کی تفصیلات سے محروم رکھاگياہے۔

...........

/110