16 جون 2010 - 19:30

حجت الاسلام و المسلمین اختری: علمائے اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپس میں بات چیت اور مفاہمت کا راستہ اپنا کر دشمنان اسلام کے خلاف مشترکہ موقف اپنائیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی حجت الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے جامعۃالازہر کے شیخ کی حیثیت سے تقرری پر ڈاکٹر احمد الطیب کو مبارک باد پیش کی اور کہا: جہاں تک میں انہیں جانتا ہوں وہ اعتدال پسند شخصیت کے مالک ہیں مگر میرا خیال ہے کہ انھوں نے نیا منصب سنبھالنے پر بدگمانی سے کام لیا ہے۔انھوں نے شیخ الازہر کی طرف سے اہل تشیع کے خلاف موقف اپنانے کے حوالے سے اہل البیت (ع) خبر ایجنسی (ابنا) کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: عالم اسلام کو بہت بڑے چیلنجوں اور سازشوں کا سامنا ہے اور یورپ اور امریکہ عالم اسلام کی تذلیل اور مسلمانوں کو پسماندہ رکھنے کی سازشوں میں مصروف ہیں؛ ایسے میں ہمیں امید ہے کہ شیخ الطیب کا موقف مسلمانوں کے درمیان وحدت کا سبب بنے اور ان کے خیالات و آراء مسلمانوں کے درمیان اختلافات کا باعث نہ بنیں۔ انھوں نے کہا: دشمنان اسلام اسلام کو انتہا پسند بنا کر پیش کرتے ہیں اور مختلف حیلوں بہانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قرآن کریم، اسلامی حجاب، جہاد اور دیگر اسلامی علامتوں اور مسلمات و مقدسات کی بے حرمتی کررہے ہیں اور اس صورت حال میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اسلام کا اس طرح سے تعارف کرائیں کہ دنیا والے اسلام کا خیر مقدم کریں اور غیر مسلم بھی اسلام کی طرف مائل ہوجائیں اور ایسا نہ ہو کہ ہم مسلسل ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے اور سرکوب کرنے میں مصروف رہیں۔ انھوں نے کہا: شیخ الطیب خود تقریب بین المذاہب اور وحدت مسلمین کے حامی ہیں اور انھوں نے اسی عنوان سے ایران اور دیگر ممالک میں وحدت کانفرنسوں میں شرکت کی ہے اور وہ خود وحدت کے داعیوں میں شمار ہوتے ہیں اور پھر وہ شیخ الازہر ہیں اور اس طرح کا موقف اس بلند منصب پر فائز شخصیت کے شایان شان نہیں ہوسکتا؛ ہمیں امید ہے کہ وہ ایک بار پھر ـ اور اس دفعہ شیخ الجامعہ کے عنوان سے ـ ایران کا دورہ کریں گے اور ہم مذاہب کے درمیان قربت و وحدت پیدا کرنے کے سلسلے میں ان کے ساتھ بات چیت کرسکیں۔ انھوں نے کہا: بہت جلد ایران میں وحدت اسلامی کے عنوان سے ایک کانفرنس کا انعقاد ہورہا ہے اور شیخ احمد الطیب اس کانفرنس میں مدعو ہوئے ہیں اور جہاں تک مجھے معلوم ہے انھوں نے یہ دعوت قبول کرلی ہے اور امید ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے ایران تشریف لائیں گے۔ ہمیں خوشی ہے اور میں ایک بار پھر اسی خبرایجنسی کے توسط سے انہیں ایران آنے کی باضابطہ دعوت دیتا ہوں۔ انھوں نے کہا: شیخ الازہر کو تشیع کی منظم تبلیغ کے حوالے سے غلط فہمی ہوئی ہے اور ان کی معلومات نادرست ہیں میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ: آپ خود علمائے اسلام میں سے ہیں اور آپ خود جانتے ہیں کہ دنیا کے گوشے گوشے میں بہت سے لوگ اسلام کی طرف مائل ہوجاتے ہیں؛ اب اگر یہ غیر مسلم افراد سنی ماحول میں ہوں تو سنی مذہب اختیار کرتے ہیں اور اگر ماحول شیعہ ہو تو شیعہ ہوجاتے ہیں۔انھوں نے کہا: ہمیں اس بات پر خوش ہونا چاہئے کہ ایک غیر مسلم فرد اسلام قبول کرتا ہے اور اگر کوئی اپنی ذاتی تشخیص یا ذاتی مطالعے اور مشاہدے کی بنا پر کوئی عقیدہ اختیار کرتا ہے تو ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کو متنازعہ بنانے کی کوشش کریں بلکہ ہمیں مسرور ہونا چاہئے کہ وہ اسلامی امت کے دامن میں آیا ہے۔ انھوں نے کہا: ہمارے یہاں ـ ایران میں ـ "مذاہب یونیورسٹی" میں سنی طلبہ بھی ہیں اور قم کے حوزہ علمیہ میں سنی طالبعلم سنی فقہ پڑھ رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ شیعہ افکار و عقائد سے بھی روشناس ہوجاتے ہیں۔ ہم ڈاکٹر احمد الطیب کو دعوت دیتے ہیں کہ الازہر کے دیگر علماء کے ساتھ مل کر ایران آئیں اور حوزہ علمیہ قم کی علمی ترقی کا نزدیک سے مشاہدہ کریں۔ اور اسی طرح قم کے بعض علماء اور طلبہ مصر کا دورہ کریں اور الازہر کے علماء اور اساتذہ سے بات چیت کریں۔ انھوں نے کہا: علمائے اسلام کی ذمہ داری ہے کہ گفتگو، تعاون، یکدلی اور ہمفکری کی راہ پر گامزن ہوں اور دشمنان اسلام کے خلاف مشترکہ موقف اپنائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ایک دوسرے کے خلاف موقف اپنائیں اور ایک دوسرے کے مذاہب کے ساتھ تنازعہ کھڑا کریں۔ انھوں نے کہا: اسرائیل اسلام کا اصلی دشمن ہے اور ہمیں اس کے خلاف مشترکہ موقف اپنانا چاہئے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ عراق، فلسطین، افغانستان اور دیگر اسلامی اور مظلوم اور مغربی ممالک کے ہاتھوں مقبوضہ اسلامی ممالک کا دفاع کریں؛ یہ وہی مسئلہ ہے جس پر انقلاب اسلامی کے رہبر معظم نے بارہا تأکید فرمائی ہے۔حجت الاسلام و المسلمین اختری نے کہا: جامعۃالازہر عالم اسلام کا علمی مرکز ہے اور اگر کسی زمانے میں الازہر کے سابق شیخ مرحوم شیخ الطنطاوی نے نادرست موقف اپنایا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ موجودہ شیخ الجامعہ بھی اسی موقف پر اصرار کریں بلکہ شیخ محمود شلتوت کی سنت پر عمل کریں اور اسلامی مذاہب کے درمیان وحدت کے اسباب فراہم کریں۔ انھوں نے کہا: میں یہیں اس حقیقت کا اعلان کرتا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اس اسلامی نظام کے بانی حضرت امام خمینی رحمۃاللہ علیہ اور رہبر معظم آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ کی پوری ہمت اسلامی مذاہب کی تقریب و یگانگت پر مرکوز ہے اور انھوں نے کبھی بھی سنی ممالک میں تشیع کے منظم فروغ کے لئے کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ انھوں نے کہا: خداوند متعال نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ آپس میں اختلاف اور نزاع سے پرہیز کریں چنانچہ اللہ کے اس فرمان سے سرتابی جس شخص اور جس مذہب کی جانب سے بھی ہو، اللہ کی حکم کی خلاف ورزی ہے۔ .......

/110

- الازہر کے نئے شیخ الجامعہ کے تضادات؛تشیع کے بارے میں نئے شیخ الازہر کے موقف میں تضادات

- جامعۃ الازہر کے سربراہ کا مجوزہ دورہ ایران؛ حجۃالاسلام والمسلمین حسینی بوشہری کا خیر مقدم