28 جون 2026 - 18:53
امیل لحود: واشنگٹن معاہدہ لبنان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے

لبنان کے سابق رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ نام نہاد فریم ورک معاہدہ لبنان کی خودمختاری کے لیے نہیں بلکہ اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے سابق رکن پارلیمنٹ امیل لحود نے لبنان، امریکا اور اسرائیلی رژیم کے درمیان واشنگٹن میں طے پانے والے نام نہاد فریم ورک معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ لبنان میں خانہ جنگی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔

خبری ویب سائٹ العہد سے گفتگو کرتے ہوئے امیل لحود نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج نے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کو مختلف شرائط سے مشروط کر دیا ہے، جبکہ لبنان اپنے دفاع کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرے، اس کا تعین بھی اسی معاہدے میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ معاہدے میں کہیں بھی لبنان کی فوج کو مضبوط بنانے یا اسے جدید ہتھیار فراہم کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ ان کے بقول اس کا مقصد فوج کو مضبوط بنانا نہیں بلکہ اسے ایسے حالات میں دھکیلنا ہے، جو ملک میں خانہ جنگی کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ لبنانی فوج کی قیادت اس صورتحال کو سمجھتی ہے اور ایسے کسی منصوبے کا حصہ نہیں بنے گی۔

امیل لحود نے اس معاہدے کو 17 مئی 1983ء کے معاہدے سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی بنیاد ہی غلط نیت پر رکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی ممالک اسرائیلی رژیم کی جنگی کارروائیوں اور حملوں پر تنقید کر رہے ہیں، لبنانی حکومت اسی رژیم کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی پالیسی اپنا رہی ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ نے اسرائیلی حکام کے ان بیانات کا بھی حوالہ دیا جن میں لبنان اور شام میں سکیورٹی زون برقرار رکھنے کی بات کی گئی ہے۔ ان کے بقول ان حالات میں یہ دعویٰ درست نہیں کہ اسرائیلی فوج مکمل طور پر جنوبی لبنان سے نکل جائے گی۔

امیل لحود نے کہا کہ لبنان کا سیاسی نظام قومی اتفاقِ رائے اور شراکت داری پر قائم ہے، اس لیے کسی ایک فریق کی خواہش پر ایسا معاہدہ پورے ملک پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں لبنانی حکومت اس نوعیت کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha