28 جون 2026 - 23:58
نئی ایشیائی تجارت میں ایران کی برتر پوزیشن

ایسی دنیا میں جہاں ممالک کی مسابقت وسائل پر قابو پانے سے عالمی تجارتی راستوں پر قابو پانے کی طرف منتقل ہو گئی ہے، ایران کو، وسطی ایشیا، خلیج فارس اور بحر ہند کے درمیان منفرد مقام کے حامل ہونے کے ناطے، ایشیا کی معیشت کا اصلی مرکز بننے کا تاریخی موقع حاصل ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ دنیا اقتصادی مسابقت کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ایسا دور جس میں ممالک کی طاقت کا اندازہ اب صرف پیداوار، برآمدات یا توانائی کے ذخائر سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ عالمی تجارتی نیٹ ورک، نقل و حمل کے راہداریوں اور سپلائی زنجیروں میں ان کی پوزیشن قومی طاقت کے اہم ترین اشاریوں میں سے ایک بن گیا ہے۔

اس نئے فارمولے میں وہ ممالک زیادہ کامیاب ہوں گے جو اپنے آپ کو عالمی تجارت کے اہم راستوں سے منسلک کر پائیں گے اور ساتھ ہی ایک یا دو محدود راستوں پر اپنا انحصار کم کر سکیں گے۔

حالیہ سالوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایک مخصوص راستے پر ارتکاز، سیاسی، سیکورٹی یا فوجی بحرانوں کی صورت میں ممالک کی معیشتوں پر بھاری اخراجات عائد کر سکتا ہے۔

روس اور یوکرین کی جنگ، اقتصادی پابندیاں، سمندری بحران اور بین الاقوامی نقل و حمل کے کچھ راستوں میں خلل نے 'تجارتی لچک (اور تجارتی برداشت)' نامی تصور کی اہمیت کو پہلے سے زیادہ اجاگر کر دیا ہے۔ یہ تصور متبادل راستوں اور کثیر الجہتی لاجسٹک نیٹ ورکس کے ذریعے تجارت کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں ممالک کی صلاحیت پر زور دیتا ہے۔

ایران ان تبدیلیوں کے درمیان ایک عدیم المثال اور امتیازی خصوصیت کا حامل ملک ہے۔ وسطی ایشیا، قفقاز، خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحر ہند تک بیک وقت رسائی، اس کو ایک ایسی ممتاز حیثیت دیتی ہے جو خطے کے کم ہی ممالک کو حاصل ہے۔ یہ جغرافیائی محل وقوع ایران کو ایشیا کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کے خطوں کو باہم جوڑنے والی اہم کڑی بنا سکتا ہے۔

ایران کی چابہار بندرگاہ ایک عام تجارتی بندرگاہ سے بالاتر مقام رکھتی ہے۔ اس بندرگاہ کی بحر ہند تک براہ راست رسائی، ایران کو جنوبی ایشیا، مشرقی افریقہ اور حتیٰ کہ جنوب مشرقی ایشیا کی منڈیوں سے منسلک ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے اور کچھ محدود علاقائی چینلوں پر، ملکی تجارت کا انحصار، کم کر دیتی ہے۔

اسی اثناء میں، جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تعاون کی اہمیت بھی پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔ پاکستان اپنی بڑی آبادی، خاص جغرافیائی محل وقوع اور بہت ساری علاقائی راہداریوں کے راستے میں واقع ہونے کی وجہ سے، خطے میں ایران کی تکمیلی تجارتی نیٹ ورک کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس نقطہ نظر کی رو سے، اقتصادی تعلقات صرف دو طرفہ تجارت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ علاقائی رابطے کے ایک وسیع تر نظام کی تخلیق کا باعث بنتے ہیں۔

دوسری طرف، سری لنکا، اگرچہ عالمی پیمانے پر بڑی معیشت نہیں سمجھا جاتا، لیکن بحر ہند میں بحری جہاز رانی کے اہم راستوں کے مرکز میں واقع ہونے کی وجہ سے، ایک تزویراتی حیثیت رکھتا ہے۔

بہت سے ممالک نئی معیشت میں، پیداوار کے حجم کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی درمیانی (Intermediary) پوزیشن اور لاجسٹک کردار کی وجہ سے اہم ہو جاتے ہیں؛ اور سری لنکا ایسے ہی ممالک کی مثال ہے۔

دنیا کی کامیاب معیشتیں برسوں سے علاقائی مراکز (Hubs) اور باز اقتسام (Redistribution) کے مراکز کا بروئے کار لا  رہی ہیں۔ ایک ایسا ماڈل جس میں سامان بندرگاہوں، لاجسٹک مراکز اور تقسیم کے اڈوں کے نیٹ ورک کے ذریعے مختلف منڈیوں کو بھجوایا جاتا ہے۔

ایسا طریقہ کار، جو سنگاپور، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ جیسے ممالک میں نافذ کیا جا رہا ہے، اخراجات کم کرنے کے علاوہ تجارت کی لچک کو بھی بڑھا دیتا ہے۔

حالیہ سالوں کی تبدیلیاں بتاتی ہیں کہ عالمی معیشت کا مستقبل پہلے کے مقابلے کہيں زیادہ سطحوں پر بحر ہند اور ایشیا میں طے ہوگا۔ چنانچہ، بندرگاہوں کو ترقی دینا، علاقائی راہداریوں کو مضبوط کرنا اور لاجسٹک شراکت داروں کا متنوع نیٹ ورک قائم کرنا، آج ایک اقتصادی انتخاب نہیں، بلکہ ممالک کی اقتصادی سلامتی کے نئے فن تعمیر کا لازم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

نقل و حمل اور ٹرانزٹ کے ایرانی ماہر "کریم نائینی" کے مطابق، اگر بیسویں صدی وسائل میں مسابقت کا دور تھا، تو اکیسویں صدی تجارتی راستوں اور راہداریوں میں مسابقت کا دور بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک ایسی مسابقت جس میں ایران، کنارے کھڑے رہنے کے بجائے، اہم کھلاڑیوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha