20 جون 2026 - 19:21
اسرائیلی اخبار معاریو کا اعتراف: مغربی ایشیا میں طاقت کا توازن بدل گیا اور ایران خطے کا بااثر ترین ملک ہے

اسرائیلی اخبار معاریو نے علاقے میں طاقت کا اسٹریٹیجک توازن بدل جانے کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران علاقے کا سب سے زیادہ طاقتور اور با اثر ترین ملک بن گیا اور اسراائیلی حکومت مشرق وسطی میں اپنی حیثیت کھوچکی ہے

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، معاریو کے مبصر آلون بن ڈیوڈ نے اپنے تازہ کالم میں تہران واشنگٹن مفاہمتی یاد داشتی کا جائزہ لیا ہے اور اس کو ایران کے مقابلے میں اسرائيل کی اسٹریٹیجک شکست قرار دیا ہے۔

معاریو کے تجزیہ نگار نے لکھا ہے کہ رواں ہفتہ ممکن ہے کہ تاریخ میں ایک ایسا ہفتہ بن جائے جس میں مشرق وسطی میں اسٹریٹیجک  طاقت کا توازن پوری طرح درہم برہم ہوجائے۔  

صیہونی روزنامہ معاریو نے اپنے اس کالم میں لکھا ہے کہ اب تک اسرائيل خود کو امریکا کا حمایت یافتہ خطے کا سب سے زیادہ طاقتور ملک کہتا تھا لیکن اب علاقے کے تغیرات میں اپنا اثرونفوذ اور حیثیت کھوچکا ہے اور دوسری طرف ایران امریکا مفاہمی یاد داشت نے تہران کو علاقے میں  سب سے زیادہ با اثر، سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ فیصلہ کن طاقت میں تبدیل کردیا ہے۔  

 آلون بن ڈیوڈ نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ  ایران کے لئے اس مفاہمت کے اقتصادی فوائد بہت زیادہ ہیں اور اس کی آمدنی میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔  

اس صیہونی مبصر نے لکھا ہے کہ تیل برآمد کرنے کی آزادانہ سہولت ملنے کی صورت میں ایران کو سالانہ اربوں ڈالر کی آمدنی ہوگی اور منجمد اثاثے ریلیز ہونے کی صورت میں اس کی اقتصادی توانائیاں مزید بڑھ جائيں گی اور نتیجے میں خطے میں تہران کی حیثیت  میں مزید کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔  

  روزنامہ معاریو کو مبصرنے ایران کے تعلق سے تل ابیب کی اسٹریٹیجی پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائیل کی شکست کی سب سے بڑی وجہ جنگ میں غیر حقیقت پسندانہ اہداف کا تعین اور تغیرات کو سنبھالنے میں سیاسی نظام کی ناتوانی ہے ۔

  اس صیہونی مبصر نے لکھا ہے کہ تل ابیب نے ایران کا سیاسی نظام گرانے کے مقصد سے ایسے راستے کا انتخاب کیا جو نہ صرف یہ کہ بے نتیجہ رہا، بلکہ ایران کے ایسی جگہ پہنچ جانے کا سبب بنا کہ اس نے دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پوری برتری اور بالا دستی کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی حیثیت کے نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

 آلون بن ڈیوڈ نے ایران کے خلاف اس جنگ کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائيل کے  لئے ایران کے خلاف براہ راست  اقدام میں حائل رکاوٹیں بڑھ گئی ہیں اور دوسری طرف اس کو علاقے کے ایسے نئے حقائق کا سامنا کرنا ہے کہ جس میں ایران ، مشرق  وسطی کا طاقتور، موثر اور مرکزی ومحوری کھلاڑی میں تبدیل ہوچکا ہے۔

اس صیہونی مبصرنے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ جنگ نے علاقائی تغیرات کے مقابلے میں امریکی کمزوریاں برملا کردی ہیں جس سے دیگر بین الاقوامی بحرانوں میں بھی امریکی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔

روزنامہ معاریو کے مبصر آلون بن ڈیوڈ نے اپنے کالم کے آخرمیں یہ نتیجہ بیان کیا ہے کہ اگرچہ اس جنگ میں اسرائیل کے لئے امریکا کا ساتھ ایک کامیابی سمجھا جاسکتا ہے، لیکن اس جنگ کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ اسرائیل کی پوزیشن بہت کمزور ہوگئی بلکہ دوسری طرف ایران کا اثرورسوخ بڑھ گیا اور علاقے میں اس کی حیثیت اور پوزیشن زیادہ محکم  ہوگئی۔  

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha