16 جون 2010 - 19:30

آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: شواہد اور عراقی اہلکاروں کی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق کے پارلیمانی انتخابات میں قطعی طور پر دھاندلی اور خلاف ورزی ہوئی ہے اور چونکہ ان انتخابات سے امریکی حاجت برآری ہوئی ہے لہذا کسی کو بھی ان انتخابات پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے آج صبح درس خارج کے آغاز پر مغربی ممالک ـ بالخصوص امریکہ ـ کی دوہری پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: چونکہ عراق میں سیکولر قوتوں کی کامیابی مغربی مفادات سے قریب تر ہے اسی بنا پر وہ عراق کے حالیہ انتخابات کو شفاف، منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کا نام دے رہی ہیں مگر چونکہ ایران کے انتخابات سے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا تھا چنانچہ ایران کے صدارتی انتخابات کو انھوں نے متنازعھ بنانے کی کوشش کی۔

انھوں نے قم کی مسجد اعظم میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: شواہد، نشانیوں اور عراقی عہدیداروں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق کے پارلیمانی انتخابات میں قطعی طور پر دھاندلی ہوئی ہے اور وسیع خلاف ورزیاں ہوئی ہیں لیکن چونکہ انتخابات کے نتائج امریکی خواہشات کے عین مطابق ہیں لہذا امریکہ کی نظر میں کسی کو بھی ان انتخابات کی نتائج پر انگلی اٹھانے کا حق حاصل نہیں ہے۔

آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے مغرب کی دوہری پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ایران میں صدارتی انتخابات بہترین اور شفاف ترین طریقے سے انجام پائے اور عوام کی عظیم اکثریت نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا مگر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی رائے مختلف تھی اور چونکہ ان انتخابات کے نتائج ان کے مفاد کے خلاف تھے اسی لئے انھوں نے ایران کے خلاف وسیع سطح پر ایران کے خلاف تشہیراتی مہم کا آغاز کیا۔

انھوں نے کہا: اس کے باوجود کہ غاصب صہیونی ریاست کے پاس 200 ایٹم بم ہیں اور اس سلسلے میں اس نے تمام بین الاقوامی معاہدوں اور میثاقوں کو بھی پامال کررکھا ہے مگر امریکہ اسرائیل کے خلاف اقدام کرنے کی بجائے تسلسل کے ساتھ منافقانہ انداز میں سند و ثبوت فراہم کئے بغیر ایران پر وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگاتا ہے اور ملت ایران کے خلاف بھاری اور غیرمنصفانہ معاشی پابندیاں لگانے کے درپے ہے۔

آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے مشرق وسطی میں مغربی ممالک ـ بالخصوص امریکہ ـ کی جانب سے دوہری پالیسیوں کی دیگر مثالوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا: خلیج فارس کے کنارے واقع عرب ریاستوں میں آج بھی 500 سال قبل والا قبائلی نظام برقرار ہے اوران ریاستوں کی باگ ڈور خاندانوں کے ہاتھوں میں ہے اور بعض ممالک میں آج تک کسی بھی قسم کے انتخابات منعقد نہیں ہوئے ہیں جبکہ ایران میں 30 برسوں کے عرصے میں 30 بار عظیم انتخابات منعقد ہوئے ہیں لیکن امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اپنی بیانات میں ایران کو جمہوریت دشمن ملک قرار دیتے ہیں!۔

جو چیز مغرب کے مفاد میں نہ ہو وہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے خلاف ہے!

آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: جو چیز ان کے مفاد میں ہو وہی انسانی حقوق اور جمہوریت کے عین مطابق ہے اور جو چیز ان کے لئے نقصان دہ ہو وہ ان کی منطق میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے خلاف ہے۔

انھوں نے اسرائیل کو دنیا اور عالم اسلام کے لئے عظیم ترین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا: لیبیا میں عرب لیگ کے حالیہ اجلاس میں لیگ کے سیکریٹری جنرل اور عرب سربراہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اسرائیل کے ساتھ صلح اور مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔

اسرائیل بے لچک عنصر

آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اسرائیل کو بے لچک عنصر قرار دیتے ہوئے کہا: یہ غاصب ریاست اپنی غلط سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور اپنی غلطیوں کی وجہ سے عالمی اور بین الاقوامی اور مغربی حلقوں ـ حتی امریکہ ـ کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا کرنے کے باوجود فلسطینی سرزمین میں صہیونی قصبے تعمیر کرنے پر مصرہے۔

انھوں نے کہا: دوہرا رویہ قرآن کریم کی نگاہ میں ایک ناپسندیدہ اخلاقی صفت ہے اور قرآن کریم میں اس صفت کو نفاق سے تعبیر کیا جاتا ہے اور قرآن کریم کی سورہ بقرہ، سورہ توبہ اور سورہ منافقوں میں اس صفت کے حامل افراد کی شدید الفاظ میں مذمت ہوئی ہے۔

انھوں نے مغربی دنیا کو نفاق اور ریاکاری سے سرشار قرار دیا اور حقیقی مؤمن کو یکتا پرست اور موحد قرار دیا جس کے اعمال ہر صورت میں ـ ظاہر و باطن ـ یکسان ہوتے ہیں اور بدترین افراد وہ ہیں جو اپنا حقیقی قول و فعل اور حقیقی چہرہ چھپا کر رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو اپنی حقیقت کے برعکس ظاہر کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یادرہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کے خلیج فارس کی ریاستوں سے بہت قریبی تعلقات ہیں اور ان ممالک میں مغربی اڈے بھی موجود ہیں؛ ان ممالک میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، مگر مغربی ممالک کو ان ممالک پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ چند سال قبل امریکہ نے وقیحانہ انداز میں اعلان کیا تھا کہ مشرق وسطی کے علاقے میں جمہوری ترین ممالک "مصر اور بحرین" ہیں جبکہ مصر میں آمریت حکمرانی کررہی ہے اور بحرین میں جمہوریت کا حال یہ ہے کہ 10 فیصد اقلیت 90 فیصد اکثریتی آبادی پر حکومت کررہی ہے اور اس ریاست کا حکومتی نظام بادشاہی اور شخصی حکومتی نظام ہے!!! اب آپ خود اندازہ کریں کہ امریکہ بہادر جھوٹ بول کر دنیا والوں کی آنکھوں میں کس طرح دھول جھونکتا ہے اور کس طرح علی الاعلان دوہری پالیسی اپناتا ہے اور یہ کہ دنیا کس طرح  جان کر اس کے جھوٹ پر یقین کرلیتے ہیں یا کم از کم اس کی بظاہر تصدیق کردیتے ہیں اور اپنے عوام کے ساتھ بدترین رویہ روارکھنے والے مسلم حکمرانوں میں اتنی اخلاقی جرأت بھی نہیں ہے کہ کم از کم امریکی جھوٹ کو جھوت سمجھیں اور اس کی غلط تشہیرات کی نفی کریں۔۔۔۔

پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو

/110