17 جون 2026 - 01:26
حصۂ دوئم | معرکۂ مقدسہ سے لے کر سمجھوتے تک؛ تسلیم و تحلیل کی سنگین سازش سے نمٹنے میں ایک قوم کی فتح

آج سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ ایران باقی، زندہ، پائندہ اور قائم و دائم رہا؛ نہ صرف باقی رہا، بلکہ بہت سی پیش گوئیوں اور منصوبوں، سازشوں اور دسیسوں کو بھی باطل کر گیا جو اس کے مستقبل کے لئے تیار کئے گئے تھے۔ یہ وہی نکتہ ہے جس کے بارے میں تاریخ لکھے گی۔۔۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قوموں کی تاریخ میں، ایسے لمحات آتے ہیں جو فوجی فتح یا سیاسی کامیابی سے بالاتر ہوتے ہیں، وہ لمحات جو "قومی شناخت" کے استحکام میں سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ ایران نے جو کچھ گذشتہ مہینوں میں گذارا، وہ اسی نوعیت کا ہے؛ ایک ایسی جنگ جس کا مقصد محض فوجی نقصان پہنچانا یا سیاسی دباؤ ڈالنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک قوم کا راستہ بدلنے اور ایک ملک کا عزم و ارادہ توڑنے کی منظم سازش تھی۔

حصۂ دوئم:

اس فتح میں عوام کا حصہ

اگر ہم اس کامیابی کے سب سے اہم عامل کے بارے میں بات کرنا چاہیں تو عوام کے کردار کی طرف اشارہ کرنا ہوگا۔ کوئی بھی ملک صرف فوجی آلات یا معاشی صلاحیت کے ذریعے، بڑے بحرانوں سے نہیں گذرتا۔ جس چیز نے ایران کو اس مرحلے سے گذرنے کی صلاحیت عطا کی، وہ سماجی سرمایہ اور قومی ذمہ داری کا احساس تھا جو ان عوام میں تھا جنہوں نے دباؤ کے باوجود، اپنے ملک کے ساتھ کھڑے رہے۔

یہی وہ حقیقت تھی جس نے بہت سے ابلاغیاتی منصوبوں اور نفسیاتی کاروائیوں کو بے اثر کر دیا اور یہ عیاں کر دیا کہ قدرتی سماجی ناراضگی اور بیرونی منصوبوں کے ساتھ ہم آہنگی کے درمیان گہرا فاصلہ ہے۔

ایک نئے باب کا آغاز

بہر حال، یہ ایک بڑی غلطی ہوگی اگر ہم اس مرحلے کو اس راستے کا اختتام سمجھ لیں۔ حقیقی فتح اس وقت مستحکم ہوتی ہے جب اس مزاحمت و مقاومت و استقامت کی کامیابیاں پائیدار طاقت میں تبدیل ہو جائیں؛ جب قومی ہم آہنگی برقرار رکھی جائے، معاشی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جائے، سماجی سرمائے میں اضافہ کیا جائے اور ان دنوں کا تجربہ ملک کے مستقبل کے لئے ایک عظیم پشت پناہ بن جائے۔

ایران ایک بڑے امتحان سے گذر گیا ہے، لیکن اس فتح کی اہمیت صرف اس حالت میں محدود ہوکر رونما ہؤا؛ بلکہ اس افق میں ہے جو ملک کے سامنے کھلا ہے۔

آج سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ ایران قائم و دائم اور مضبوط رہا؛ نہ صرف باقی رہا، بلکہ بہت سی پیش گوئیوں اور منصوبوں کو ـ جو اس کے مستقبل کے لیے لکھے گئے تھے، ـ باطل کر دیا۔ یہ وہی نقطہ ہے جس کے بارے میں تاریخ لکھے گی:

"ایک قوم جسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کا منصوبہ تھا، کھڑی رہی؛ ایک ملک جسے کمزور کرنے کا منصوبہ تھا، زیادہ مضبوط اور طاقتور ہو گیا؛ اور وہ عوام جنہیں تھکا کرنے کا منصوبہ تھا، انھوں نے ثابت کیا کہ ان میں ابھی بھی اپنی تاریخ کے بڑے ابواب رقم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔"

اور شاید ان دنوں کا سب سے اہم پیغام یہی ہے؛ یہ ایک جنگ کا خاتمہ تھا، ایک راستے اور ایک مشن کا خاتمہ نہیں؛ مستقبل کا نقطۂ آغاز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: چیف ایڈیٹر ابنا

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha