16 جون 2026 - 17:27
بحرین میں عاشورائی مراسم پر سخت پابندیاں، مذہبی علامات اور روایتی مظاہر پر قدغن

بحرین میں آل خلیفہ حکومت نے محرم اور عاشورہ کی مجالس پر نئی سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے مذہبی اجتماعات کو سخت سکیورٹی نگرانی کے دائرے میں لا دیا ہے۔ ان پابندیوں کے تحت حسینی پرچموں، مذہبی علامات اور علماء کی تصاویر کے استعمال پر بھی سخت قدغن لگا دی گئی ہے، جسے مذہبی آزادیوں پر مزید دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آل خلیفہ حکومت نے محرم اور عاشورہ کی مجالس سے متعلق نئے سخت گیر اقدامات نافذ کیے ہیں، جن کا مقصد عزاداری کے روایتی اور تاریخی مظاہر کو محدود کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔

ان نئی ہدایات کے مطابق تمام عزاداری جلوسوں اور مجالس کو رات 12 بجے تک ختم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ حسینی پرچموں، بیرقوں اور مذہبی علامات کو حسینیہ اور موکب کے باہر نصب کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

حکومتی ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پرچم بلند کرنے کی سالانہ روایتی تقریبات کو بھی منسوخ کر دیا جائے، جو ہر سال محرم کے آغاز پر مختلف علاقوں میں منعقد کی جاتی تھیں۔ حکام نے اس اقدام کو یہ کہہ کر جواز دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ ایک "غیر ملکی روایت" ہے جو بحرینی معاشرے کا حصہ نہیں۔

مزید برآں، نئے احکامات میں مجالسِ عزاء کے اندر کسی بھی عالمِ دین کی تصاویر—چاہے وہ زندہ ہوں یا وفات یافتہ—آویزاں کرنے پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ بحرینی اور غیر بحرینی دونوں علماء پر یکساں لاگو ہوگا۔

ناقدین کے مطابق یہ اقدامات مذہبی شناخت اور فکری علامات کو عوامی دائرے سے محدود کرنے کی کوشش ہیں، اور انہیں بحرین میں شیعہ کمیونٹی کی مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں پر مسلسل دباؤ کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha