اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس انٹرویو میں اسرائیل اور لبنان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیروت پر اسرائیلی حملوں کو پسند نہیں کرتے اور ان کے خیال میں لبنان کے معاملے میں دیگر علاقائی راستوں پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ شام حزب اللہ سے متعلق بعض معاملات میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے لبنان میں جاری کشیدگی کو ایک ثانوی مسئلہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا جوہری معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس سے قبل بھی وہ لبنان کے بحران کے حل میں دمشق کے کردار کے حوالے سے اپنی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم شام کی موجودہ قیادت نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شام کے سربراہ احمد الشرع نے لبنان کے ساتھ سرحدی معاملات کو موجودہ حالات میں ترجیح دینے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام کو اس وقت داخلی چیلنجز اور پناہ گزینوں کے مسائل کا سامنا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھی گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ان کے بقول ایران کے ساتھ تعامل اور روابط کے لیے اب بھی مناسب مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران میں ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہاں جوہری سرگرمیوں سے متعلق مواد موجود تھا۔
امریکی صدر نے اپنی گفتگو کے دوران اسرائیل کے بارے میں غیر معمولی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حمایت اسرائیل کی بقا کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ انہوں نے بنیامین نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان کے بحران کے حوالے سے زیادہ سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
آپ کا تبصرہ