15 جون 2026 - 17:10
شیخ احمد القطان: لبنان میں مقاومت کا راستہ قرآن کریم کی تعلیمات کی بنیاد پر اختیار کیا گیا

لبنان کے سنی عالم دین شیخ احمد القطان نے کہا ہے کہ مقاومت کا انتخاب قرآن کریم کی تعلیمات اور دینی ذمہ داری کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل مسلسل جارحیت کے باوجود اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی تنظیم "قولنا والعمل" کے زیر اہتمام نئے ہجری سال کے آغاز کی مناسبت سے ایک دینی و تربیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں تنظیم کے سربراہ شیخ احمد القطان، ارکانِ پارلیمان، مسیحی مذہبی شخصیات، مختلف قومی و اسلامی جماعتوں کے نمائندوں، فلسطینی تنظیموں اور علاقائی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ احمد القطان نے کہا کہ لبنان میں مقاومت کا راستہ قرآن کریم کی تعلیمات سے وابستگی اور دینی اصولوں کی روشنی میں اختیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی۔امریکی منصوبہ صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو نشانہ بنائے ہوئے ہے اور وہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ ان کے بقول اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے ہر فرد اور گروہ کی حمایت ایک شرعی ذمہ داری ہے۔

شیخ القطان نے کہا کہ لبنان میں مقاومت کو بدنام کرنے کی کوششیں ان عظیم قربانیوں کو نظرانداز کرتی ہیں جو شہداء اور مجاہدین نے وطن کے دفاع کے لیے پیش کی ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "مقاومت لبنان کی روح ہے" اور اسرائیلی دشمن مسلسل حملوں اور جارحیت کے باوجود اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

لبنانی سنی عالم دین نے مزید کہا کہ تجربات نے ثابت کر دیا ہے کہ طاقت ہی مذاکرات کی بنیاد بنتی ہے اور طاقت ہی جنگ بندی کے حصول میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کے ساتھ کھڑے ہونے اور جارحیت روکنے کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیرِ نو میں مدد دینے والے تمام فریقین کا شکریہ ادا کیا جانا چاہیے۔

شیخ احمد القطان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی وحدت، استقامت اور مشترکہ جدوجہد ہی لبنان کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کا مؤثر راستہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha