اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق کی وفاقی عدالت نے اعلان کیا ہے کہ صرف وہ اتحاد حکومت تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جو پارلیمان کے اندر سب سے بڑا اتحاد تشکیل دے سکے جبکہ انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا اتحاد اگر ایسا نہ کرسکے تو وہ حکومت تشکیل نہیں دی سکے گا۔ لیکن اس کے باوجود ایاد علاوی ـ جو صرف دو نشستوں کے اختلاف سے المالکی کے اتحاد سے آگے ہیں ـ نے دعوی کیا ہے کہ ان کا اتحاد حکومت تشکیل دے گا۔
توقع کی جاتی ہے کہ وفاقی عدالت کے اس حکم کی بدولت حکومت کی تشکیل کے حوالے سے مختلف احزاب کے درمیان تنازعہ حل ہوجائے گا۔
العلاوہ کی رابطہ مہم
العراقیہ نامی اتحاد کے سربراہ ایاد العلاوی ـ جنہیں پارلیمان میں 91 نشستیں حاصل ہوئی ہیں ـ نے کہا ہے کہ حکومت کی تشکیل کے حوالے سے ان کے مختلف اتحادوں سے رابطے اور صلاح مشورے جاری ہیں اور وہ حتی نوری المالکی سے بھی اس سلسلے میں بات چیت کریں گے۔
عراق کے سابق عبوری وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کی صورت میں پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں نئے باب کا اضافہ کریں گے اور ان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کریں گے۔
یادرہے کہ عراقی آئین کے مطابق چونکہ العلاوی کی والدہ کا تعلق لبنان سے ہے لہذا وہ بذات خود وزرات عظمی کے امیدوار نہیں بن سکتے۔
العلاوی نے مزید کہا: نئی حکومت کو چاہئے کہ پڑوسیوں کے ساتھ وسیع سیاسی اور معاشی تعلقات استوار کرے اور ایران اور کویت کے ساتھ سرحدی تنازعات حل کرنے کی راہ پر گامزن ہو کیونکہ اس طرح عراق کو استحکام ملے گا اور عراق کا استحکام پورے خطے کا استحکام ہے اور آنے والی حکومت کو اسی سلسلے میں اقدام کرنا چاہئے۔
العلاوی نے جبہةالتوافق (جس کے پاس چھ نشستیں ہیں) اور قومی اتحاد (جس کے پاس ستر نشستیں ہیں) سے رابطہ کرکے جلد از جلد حکومت کی تشکیل پر زور دیا ہے اور العراقیہ سمیت مذکورہ دو اتحادوں نے بھی قومی مشارکت کی حکومت اور اس حکومت میں تمام جماعتوں کو حقیقی نمائندگی دینے پر تأکید کی ہے۔
دوسری طرف سے العراقیہ اتحاد کی رکن جماعت "الوفاق" کے رکن "لُوَی السعدی" نے کہا ہے کہ کرد اتحاد کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے اور طالبانی اور بارزانی کے ساتھ اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔
گو کہ السعدی نے مثبت علامتوں کا ذکر کیا ہے تا ہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر العراقیہ نامی اتحاد کے مذاکرات ناکام ہوجائیں تو العراقیہ سمیت کامیاب ہونے والے تمام اتحادوں کو مشکلات اور پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
المالکی ـ الحکیم اتحاد کے امکانات قوی تر
اسی اثناء میں المالکی اور الحکیم کی قیادت میں تشکیل یافتہ اتحادوں کے درمیان سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کی تشکیل کے امکانات روشن ہوگئے ہیں جس کی بنا پر یہ دو اتحاد حکومت بھی تشکیل دے سکیں گے۔ المالکی کے اتحاد نے بھی رابطہ مہم تیزرفتاری کے ساتھ جاری رکھی ہوئی ہے؛ گو کہ المالکی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان شدہ نتائج کو تسلیم نہ کرتے ہوئے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کرکے ووٹوں کی دستی بازشماری (دوبارہ دستی گنتی) کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ عمارالحکیم اور نوری المالکی کے اتحادوں کے نمائندے مشترکہ پارلیمانی پارٹی اور حکومت تشکیل دینے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سید عمار الحکیم کے "قومی اتحاد" کو پارلیمانی انتخابات میں 70 نشستیں ملی ہیں اور ان نشستوں کی اکثریت کا تعلق مقتدی الصدر کی جماعت سے تعلق رکھتی ہیں۔ اسی بنا پر حکومت قانون اتحاد اور قومی اتحاد کے نمائندوں کا ایک وفد مقتدی الصدر کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے تا کہ ان دو اتحادوں کے درمیان ایک قوی معاہدے کے حوالے سے الصدر کی حمایت حاصل کی جاسکے۔
حکومت قانون اتحاد اور قومی اتحاد متحدہ پارلیمانی اتحاد کی تشکیل کی صورت میں 159 نشستوں کی اس پارلیمانی پارٹی کو حکومت کی تشکیل کے لئے صرف 4 مزید نشستوں کی ضرورت ہوگی جبکہ دونوں اتحادوں نے کرد اتحاد کے ساتھ بھی رابطے کئے ہوئے ہیں جس کے پاس 43 نشستیں ہیں۔
حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں العلاوہ کو مشکل کا سامنا
بہر صورت حکومت تشکیل دینے کا کٹھن راستہ ایاد علاوی کے لئے زیادہ ہے کٹھن ہے جبکہ نوری المالکی کے لئے یہ راستہ کافی آسان نظر آرہا ہے؛ کیونکہ العلاوی اگر کردوں کی تمام جماعتوں کو مراعات دے کر ان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوجائیں تو ان کے پاس مجموعی نشستوں کی تعداد 146 ہوجائے گی اور انہیں حکومت کی تشکیل کے لئے مزید 17 نشستوں کی ضرورت ہوگی۔
دریں اثناء المالکی کی کابینہ کے وزیر داخلہ جواد البولانی نے 4 نشستیں حاصل کی ہیں؛ جبہۃالتوافق کو 6 نشستیں ملی ہیں اور اقلیتی نشستوں کی تعداد آٹھ ہے یوں ان نشستوں کی مجموعی تعداد بھی 18 ہے اور دونوں حریف الائنسوں کی کوشش ہوگی کہ ان کی حمایت حاصل کریں بہر صورت نوری المالکی کو اس سلسلے میں بھی زیادہ مواقع میسر ہیں۔
................
/110