11 جون 2026 - 16:47
ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی اسلحہ ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا؛ اتحادی جدید میزائلوں کے انتظار میں

ایران کے ساتھ جنگ اور مختلف محاذوں پر بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے باعث امریکہ کے اسلحہ ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ امریکی اتحادی ممالک کو فضائی دفاعی نظام کے جدید میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی دفاعی صنعت کی بڑی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے برلن ایئر شو کے موقع پر بتایا کہ کمپنی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتی کہ پی اے سی-3 طرز کے میزائل کب اور کس وقت خریدار ممالک کے حوالے کیے جائیں گے، کیونکہ پیداوار مکمل ہونے کے بعد ان کی حتمی تقسیم کا اختیار امریکی حکومت کے پاس ہوتا ہے۔

کمپنی کے مطابق اگرچہ امریکی وزارت جنگ کے ساتھ 4.7 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت 2033 تک سالانہ پیداوار 650 میزائلوں سے بڑھا کر 2 ہزار میزائل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، تاہم بڑھتی ہوئی عالمی طلب کے باعث یہ صلاحیت بھی ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، جاپان، پولینڈ، جرمنی اور متحدہ عرب امارات سمیت وہ تمام ممالک جو امریکی فضائی دفاعی نظام استعمال کرتے ہیں، نئی کھیپ کے حصول کے لیے طویل انتظار کا سامنا کر سکتے ہیں۔

امریکی ذخائر پہلے ہی دباؤ کا شکار تھے

رپورٹ کے مطابق حالیہ کشیدگی سے قبل بھی ان جدید دفاعی میزائلوں کے عالمی ذخائر دباؤ میں تھے۔ امریکہ 2022 سے یوکرین کو بڑی تعداد میں فضائی دفاعی میزائل فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران بھی اس نے اپنے جدید ہتھیاروں کا نمایاں حصہ استعمال کیا۔

اس صورتحال کے باعث امریکی وزارت جنگ کو اپنے اسلحہ ذخائر کی دوبارہ بحالی کو اولین ترجیح دینا پڑی ہے، جس کے نتیجے میں بیرونی خریداروں کو ہتھیاروں کی فراہمی مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔

سات اہم ہتھیاروں کی قلت کا انکشاف

الجزیرہ کے ایک تجزیے کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکی فوج کو سات اہم اقسام کے ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہے۔ ان میں بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے والے دفاعی میزائل، فضائی دفاعی نظام کے میزائل اور بحری جہازوں پر نصب جدید فضائی دفاعی ہتھیار شامل ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکہ اپنے تقریباً 3 ہزار 100 ٹام ہاک کروز میزائلوں میں سے ایک ہزار سے زائد استعمال کر چکا ہے۔

تجزیے کے مطابق جنگ سے پہلے والی سطح پر اسلحہ ذخائر کی بحالی میں ایک سے چار سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے، کیونکہ زیرِ پیداوار میزائلوں کی فراہمی اور ذخائر کی تکمیل ایک طویل عمل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha