اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اپنے بیان میں کہا ہے: پھر بھی غاصب صہیونی ریاست نے قدس شریف کو یہودی بنانے کی شیطانی سازش کی ہے اور یہ سازش مسجد الاقصی کی مغربی دیوار کے ساتھ مسلمانوں کی سرزمین میں بڑی یہودی کنیسے کی تعمیر ہے۔ انھوں نے کہا ہے: عالمی اداروں کی طرف سے مذمت کے باوجود فلسطینی سرزمین میں صہیونی قصبوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اس کنیسے کا افتتاح ـ جو وسیع تشہیراتی مہم کے ہمراہ تھا ـ ایک عظیم المئے کا پتہ دے رہی ہے؛ یہاں تک کہ سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ یہ اقدام قدس شریف کی انہدام اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور بیت المقدس میں تمام اسلامی آثار کو مٹانے کی تمہید ہے اور ہم ان صہیونی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس نئی سازش نے تمام مسلمانوں کے دلوں میں غم و غصے کی آگ بھڑکا دی ہے اور مسلمانان عالم اس اقدام کو تیسری انتفاضہ تحریک اور مقبوضہ سرزمینوں میں ایک عظیم دھماکے کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں۔ کیا بعض عرب ممالک کے سربراہان جو غاصب ریاست کے ساتھ عشق بازی میں مصروف ہیں، صہیونیوں سے خوفزدہ ہیں جبکہ لبنان کی بہادر حزب اللہ اور غزہ کے عوام نے ثابت کیا ہے کہ اسرائیل اتنا کمزور، زد پذیر اورغیرمحفُوظ ہے کہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوا جاتا۔ کیا عرب حکمران ایک بار پھر اس منحوس حادثے پر بھی خاموشی اختیار کریں گے یا صرف زبانی مذمت پر اکتفا کرکے اپنے لئے مسلم امہ اور آئندہ نسلوں کی لعن و نفرین خرید لیں گے؟ یا پھر شجاعانہ اقدام کرکے غضب اور فریاد کا طوفان اٹھا کر اسرائیل کے سر پر لپکتے ہیں؟.اس بیان کے آخر میں آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا ہے: اگر عرب ممالک ایسے اقدامات کے سامنے خاموشی اختیار کریں تو یقیناً مسلم اقوام خاموشی اختیار نہیں کریں گی اور زیادہ سے زیادہ اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ان کے سامنے ڈٹ جائیں گی اور مزاحمت کا راستہ اپنائیں گی اور اپنی اسلامی غیرت کا بھرپور مظاہرہ کریں گی۔ ...................
/110