17 مئی 2010 - 19:30

کوئٹہ میں ہزار گنجی کے علاقے میں فائرنگ سے تین شیعہ افراد شہید اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔ ڈی جی خان میں دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے چوٹی زرین کے معروف شیعہ سماجی کارکن نسیم عباس کو شہید کر دیا گیا جبکہ اُن کے والد اور عزیز شدید زخمی ہوئے۔

کوئٹہ: ہزار گنجی میں فائرنگ سے تین شیعہ افراد شہیدفائرنگ کا واقعہ  ہزار گنجی (کاریز) کے مقام پر پیش آیا۔ نمائندہ شیعت نیوز کے مطابق  شیعہ افراد ہزارہ ٹاون سے سبزی خرید کر اپنی گاڑی میں واپس جا رہے تھے کہ  ہزار گنجی(کاریز) پر پہلے سے موجود نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے میں تین افراد  شہید اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔ زخمی کو بولان میڈیکل کمپیلکس منتقل کر دیا گیا ہےڈی جی خان کے علاقے چوٹی زیرین میں دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے چوٹی زرین کے معروف شیعہ سماجی کارکن نسیم عباس کو شہید کر دیا گیا جبکہ اُن کے والد اور عزیز شدید زخمی۔

نمائندہ شیعت نیوز کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشت گرد حافظ عبداللہ اور اس کے نامعلوم ساتھیوں نے نسیم عباس پر فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے نسیم عباس موقع پر ہی شہید ہو گیے جبکہ اُن کے والد زوار حاجی غلام رسول اور عزیز مطلوب حسین شدید زخمی ہو گیے۔ زخمیوں کو مقامی ہسپتال میں پہنچا دیا گیا ہے۔کالعدم  سپاہ صحابہ نہ صرف جنوبی پنجاب میں بلکہ پورے پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ دوسرے فرقوں کے متعلق نفرت انگیز لٹریچر پھیلایا جا رہا ہے۔پنجاب حکومت کی زیر سر پرستی میں کالعدم سپاہ صحابہ نے اہلسنت والجماعت کے پلیٹ فارم کے تحت اپنے آپ کو دوبارہ منظم کرنا شروع کر دیا ہے۔ پورے ملک بالخصوص پنجاب میں غلامان صحابہ کےنام سے رجسٹریشن بھی شروع کر دی گئی ہے۔ اس ساری صورتحال میں حکومتی ادارے، ایجنسیز بالکل خاموش اور لا تعلق نظر آ رہے ہیں۔کراچی:کالعدم سپاہ صحابہ کے دو اہم دہشتگرد گرفتاراسپیشل انوسٹیگیشن یونٹ کراچی نے کراچی کے علاقہ اورنگی ٹاؤن میں چھاپہ مار کر کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے دو اہم دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشت گرد اشتیاق ازمی اور اس کے ایک ساتھی فیض کو اورنگی ٹاؤن سیکٹر چودہ ۔سی۔کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گرفتار کیا اور بعد ازاں پولیس کے حوالے کر دیا۔شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق دہشتگرد اشتیاق ازمی اور اس کا ساتھی فیض کالعدم دہشتگرد تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے اہم ترین لوگوں میں شامل ہیں ،واضح رہے کہ جمعرات کے روز دہشت گرد ایک بم دھماکے کی ٹیسٹنگ میں مصروف عمل تھے اور دھماکہ خیز مواد کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد علاقہ مکینوں نے دھماکہ کی جگہ پہنچ کر اشتیاق ازمی اور اس کے ساتھی فیض کو پکڑ لیا اور علاقہ مکینوں نے ان دہشت گردوں کی پٹائی کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دہشت گرد اشتیاق ازمی مقامی مسجد میں پیش امام کی ذمہ داریا بھی انجام دے رہا تھا جبکہ اس کا اصل چہرہ جمعرات کے روز عوام نے واضح کر دیا ،دہشت گرد اشتیاق ازمی اس سے قبل بھی بم دھماکوں اور دیگر فرقہ وارانہ قتل کی وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا ۔ایک اور بات قابل ذکر یہ ہے کہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں بشمول سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی سمیت دیگر پنجاب کے بعد اب صوبہ سندھ میں بھی حکومتی سرپرستی حاصل کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے دہشت گردوں کے حوالے سے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے ہیں،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشت گرد رہنما احمد لدھیانوی سے وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مفتی فیروز الدین ہزاروی نے مسجد صدیق اکبر میں جا کر ملاقات کی ہے ،واضح رہے کہ مسجد صدیق اکبر کو حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے ۔اسی طرح ان کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں نے یزیدی احمد لدھیانوی کے ساتھ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے بھی ملاقات کی ہے ۔ان ملاقاتوں کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردوںکو سندھ حکومت بشمول وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی سر پرستی بھی حاصل ہے،واضح رہے کہ یہ دہشت گرد عناصر پاکستان میں گذشہ تین دہائیوں سے ملت جعفریہ پاکستان کی نسل کشی کے مرتکب ہیں۔

......

مختصر سی یادداشت:

واضح رہے کہ حکام پاکستان کی سرپرستی میں تشکیل پانی والی تنظیمیں اور ان کی دہشت گرد اراکین گذشہ تین دہائیوں سے ملت جعفریہ پاکستان کی نسل کشی میں مصروف ہیں مرتکب ہیں گو کہ یہ دہشت گرد پاکستان کی اساس اور قومی سلامتی پر وار کرنے میں کوئی کسر روا نہیں رکھتے اور حال ہی میں لاہور کی نہایت خفیہ ایجنسی کے دفتر میں دھماکہ کرکے اور اس کے بعد بھی کئی روز تک لاہور میں متعدد دھماکے کرکے ثابت کرچکے ہیں کہ ان کے آقا بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کی قومی سلامتی پر وارد ہونے والی کاری ضربیں دیکھ کر خوشی سے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے اور اگر حکومت کے اعلی اہلکار اس طرح ان کی پذیرائی کرتے رہیں تو پاکستانی عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ ہمارے حکام بھی بیرونی دشمنوں کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں اور وہ بھی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر مملکت خداداد پاکستان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور چور اور ڈاکو مل کر عوام کا ناطقہ بند کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

بشکریہ از شیعیت نیوز