اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق "عدلون" کے علاقے میں چلتی گاڑیوں اور صیدا کے علاقے "قیاعہ" میں رہائشی عمارتوں پر فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں اور خاندانوں سمیت کئی شہری شہید ہوگئے۔
اسرائیلی فوج نے صور شہر اور اس کے گرد و نواح کے وسیع علاقوں کے لیے انخلا کی وارننگ بھی جاری کی، جس سے شہری آبادی پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔ جنوبی لبنان کے مختلف قصبوں اور دیہات پر ہونے والے الگ الگ حملوں میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب مزاحمتی قوتوں نے اسرائیلی فوجی نقل و حرکت، بکتر بند گاڑیوں اور فوجی اجتماعوں کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائیاں کیں۔ رپورٹس کے مطابق مزاحمت نے حملہ آور ڈرونز اور بھاری میزائلوں کے ذریعے "مرکاوا" ٹینکوں، فوجی کمانڈ مراکز اور سرحدی علاقوں میں اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ادھر اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ سرحدی جھڑپوں اور حزب اللہ کے ڈرون حملوں میں اس کی ایک خاتون فوجی ہلاک جبکہ سات دیگر اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ ہلاکتیں مغربی الجلیل کے قریب "شومریہ" نامی بستی کے اطراف فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ہوئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے وسط میں ہونے والی محدود جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی فوجی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ