26 مئی 2026 - 17:58
حزب اللہ لبنان: قابض دشمن کے خلاف مزاحمت قومی حق اور آئین کے مطابق ہے

لبنان کے آئین کی تدوین کی سوویں سالگرہ کے موقع پر حزب اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی جارحیت اور قبضے کے خلاف مزاحمت نہ صرف ایک قانونی اور قومی حق ہے بلکہ یہ لبنان کے آئین اور قومی خودمختاری کے عین مطابق بھی ہے، اور کوئی سیاسی یا حکومتی ادارہ اس حق کی قانونی حیثیت ختم نہیں کر سکتا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان کی ایک آزاد ریاست کے طور پر شناخت صرف نعروں سے قائم نہیں رہ سکتی بلکہ اس کے لیے سرزمین اور عوام کو صہیونی طمع اور جارحیت سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

بیان میں زور دیا گیا کہ قومی خودمختاری اور وقار کے دفاع کا حق لبنان کے آئینی اصولوں، عرب معاہدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے جڑا ہوا ہے، جبکہ کوئی سیاسی فیصلہ مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لیے ملت کے فطری حق کو محدود یا منسوخ نہیں کر سکتا۔

بیان کے ایک اور حصے میں حزب اللہ نے لبنان کو تقسیم کرنے، وفاقی نظام نافذ کرنے یا پناہ گزینوں کو مستقل طور پر آباد کرنے کے منصوبوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات آئین کی روح اور “متحد لبنان” کے تصور کے بنیادی طور پر خلاف ہیں۔

حزب اللہ نے کہا کہ لبنان میں مذہبی تنوع کو ملک کی تقسیم، فرقہ وارانہ علاقوں کے قیام یا بیرونی طاقتوں سے مدد طلب کرنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے، کیونکہ اس نوعیت کے منصوبے مختلف عنوانات کے تحت لبنان کی جغرافیائی وحدت اور قومی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

بیان میں “طائف معاہدے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس معاہدے میں مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا گیا ہے، جبکہ صہیونی رژیم کے ساتھ تعلقات کو دشمنی اور مستقل خطرے کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے، نہ کہ تسلیم کرنے یا تعلقات معمول پر لانے کی بنیاد پر۔

حزب اللہ نے آخر میں کہا کہ مسلسل صہیونی جارحیت کے باوجود لبنان کی طاقت کے عناصر کو کمزور کرنے کی بعض سیاسی کوششیں دراصل طائف معاہدے سے انحراف ہیں۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ خارجی مداخلت اور بیرونی تسلط کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آئین پر مکمل اور غیر امتیازی عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha