17 مئی 2010 - 19:30

بیت المقدس میں عجیب اور نہایت اہم واقعات رونما ہورہے ہیں 15 اور سولہ مارچ کو ہاحوریا (الخراب) نامی کنیسے کا افتتاح ہوا جو صہیونیوں کے مطابق مسجدالاقصی کے انہدام کی تمہید ہے اور دو بہت بڑے پتھر بیت المقدس میں منتقل کئے گئے جنہیں ہیکل سلیمانی کی بنیاد کے پتھر قرار دیا گیا ہے۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق بیت المقدس اور فلسطین میں صورتحال بہت ہی نازک ہے؛ تیسری انتفاضہ تحریک کا آغاز ہورہا ہے اور فلسطینی قائدین نے فلسطینیوں کو ہدایت کی ہے کہ تیسری انتفاضہ تحریک کا آغاز کردیں؛ بیت المقدس میں "ہاحوریا" نامی کنیسے کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے جس کو قبلۂ اول کے انہدام کی تمہید قرار دیا جارہا ہے اور صہیونیوں نے اس سے قبل کئی بار اس بات کا اظہار بھی کیا ہے؛ بیت المقدس میں دو بہت بڑی چٹانیں منتقل کی گئی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ ہیکل سلیمانی کی بنیاد میں یہ دو چٹانیں رکھی جائیں گی اور ہم جانتے ہیں کہ صہیونیوں کا عقیدہ ہے کہ مسجدالاقصی ہیکل سلیمانی کے ویرانے پر تعمیر کی گئی ہے اور ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ مسجد الاقصی کو منہدم کرکے ہی ہیکل سلیمانی کی تعمیر ممکن ہوسکے گی!. مگر اسلام، انسانیت اور دین و مکتب کے نمائندے بننے والے مسلم ذرائع ابلاغ نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور وہ اپنے عوام کو اس صہیونی سازش سے آگاہ کرنے کی جرأت تک کھوگئے ہیں۔حالیہ کئی دنوں سے بیت المقدس کی فضا پولیس اور سیکورٹی کی فضا بنی ہوئی ہے اور کل ہی کو مسلمانوں اور صہیونی سیکورٹی گماشتوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں اور ہمارے قبلۂ اول کا دفاع کرتے ہوئے 150 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں مگر مسلم روزناموں اور ویب سائٹوں یا دیگر ذرائع ابلاغ میں ان خبروں کو کوئی جگہ نہیں مل رہی! ہمیں تو نظر نہیں آرہا کہ ہمارے ذرائع ابلاغ نے رضائے الہی کی خاطر خاموشی اختیار کر رکھی ہو چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے مد مقابل طاغوتی قوتوں کی خوشنودی مطلوب اول ہے۔ یہ خبریں اتنی اہم ہیں کہ کسی بھی روزنامے یا ٹی وی خبرنامے کی پہلی اور اہم خبروں میں انہیں جگہ دی جاسکے یا ان کی سرخی بنا کر اخباروں کی پیشانی پر لگائی جاسکے مگر ایسا کیوں نہیں ہے؟؟؟ہاں البتہ ہمارے اخبارات کو عراق کے انتخابات میں فلان بین الاقوامی قوت یا فلان عرب بادشاہت کے مطلوبہ امیدوار کو کامیاب کرانے یا فلان فلم میں فلان اداکار یا اداکارہ کے آنے یا نہ آنے یا فلان فلم کے فلاپ یا کامیاب ہونے کی خبروں سے فرصت نہیں ہے اور یہ ایک حقیقت ہے اور انہیں البتہ کچھ تو اسلام کے ماتھے پر دھبہ بننے والے دہشت گردوں کی خبروں سے بھی فرصت نہیں ملتی اور ان کے خلاف بھی حق بولنے کی جرأت بھی نہیں ہے اور یہ بتانا بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ سارے دہشت گرد بھی اسلام کا دعوی کرنے کے باوجود صہیونیوں کا راستہ ہموار کرکے ـ مسلمانوں کو اندرونی لڑائیوں میں مصروف کرکے ـ مسجد الاقصی کی تباہی میں صہیونیوں کی بھرپور مدد کر رہے ہیں۔ وہاں نہتے فلسطینی ـ جنہوں نے شیرون کے مسجدالاقصی میں داخلے پر احتجاج کرتے ہوئے دوسری انتفاضہ کا آغاز کیا تھا ـ اس بار مسجدالاقصی کے انہدام کی صہیونی سازش کا راستہ روکنے کے لئے تیسری انتفاضہ کا آغاز کررہے ہیں۔ تو کیا مسلمانوں کے ذرائع ابلاغ رائٹرز کا انتظار کررہے ہیں یا بی بی سی کا؟ہان انتظار کریں اور جب وہاں کے واقعات کے مغربی ذرائع ابلاغ تصدیق کرلیں تو آپ بھی شروع کریں اچھے مقلدین کی طرح؛ مغرب کی غلامی ورثے میں جو ملی ہے ہمارے ذرائع کو حتی بعض ذرائع ابلاغ کو تو گویا اسرائیل کی منظوری کی بھی ضرورت ہوتی ہے!!!لیکن یاد رکھو اگر آج ہم نے قبلۂ اول کا دفاع نہ کیا تو کل قبلۂ موجود کا دفاع کرنا پڑے گا اور آج اگر ہم قبلۂ اول کا دفاع نہ کرسکے تو کل قبلہ موجود کا دفاع بھی نہیں کرسکیں گے۔......................

/110