17 مئی 2010 - 19:30

اردنی حکومت کی طرف سے امدادی ٹیموں کو فنڈز جمع کرنے سے روکنا اسرائیلی جارحیت کی حمایت اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بڑھانے کے مترادف ہے۔

اردنی پولیس نے غزہ کے محصورین کی امداد جمع کرنے والے انسانی حقوق کی تنظیم کے 18 اراکین کوگرفتار کرتے ہوئے ان کے امدادی کیمپ اکھاڑ دیے ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کے روز سے عمان کے مختلف مقامات پرغزہ کی محصورین کی امداد کے لیے امداد جمع کرنےکے کیمپ لگائے گئے جن کا اہتمام اردن کی مذہبی جماعت اسلامک ایکشن فرنٹ کی ذیلی تنظیم نے کیا تھا۔

دوسری جانب اسلامک ایکشن فرنٹ، اس کی ذیلی تنظیم، آزادی و انسانی حقوق" اور اردن میں کام کرنے والے انسانی حقوق کے مختلف اداروں نے پولیس کے ہاتھوں ہونے والی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی حمایت اور فلسطینیوں پر ظلم کا حصہ قرار دیا ہے۔

اتوار کے روز عمان میں ایکشن فرنٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اسرائیل کی خوشنودی کے لیے محصورین غزہ کی امداد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں کی ہیں جبکہ قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے مسجد اقصیٰ  پر حملے تیز کرتے ہوئے مسجد ابراھیمی اور مسجد بلال بن رباح کو یہودی تاریخ کا حصہ قراردینے کی سازش کی ہے۔

 اردنی حکومت کی طرف سے امدادی ٹیموں کو فنڈز جمع کرنے سے روکنا اسرائیلی جارحیت کی حمایت اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بڑھانے کے مترادف ہے۔اس کے علاوہ دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی امدادی کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

152/