بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹرمپ کے دورہ چین کے گرد وسیع پیمانے پر تشہیری مہم اور بہت سی خوش فہمیوں کے باوجود، اس واقعے نے بیجنگ کے مقابلے میں واشنگٹن کی پوزیشن کو بہت ہی کمزور کر دیا۔
دونوں ممالک خاص طور پر ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران وسیع اقتصادی تنازعات میں الجھے رہے۔
تائیوان جیسے حساس موضوعات بھی ـ جو چین اور امریکہ کے درمیان تزویراتی نقطۂ جوش (Boiling point) ہے ـ چین اور امریکہ کے درمیان تصادم کا مستقل مرکز بن چکے ہیں اور ٹرمپ کا دورہ چین نہ صرف اس مسئلے کے حل میں ممد و معاون ثابت نہیں ہؤا بلکہ اس نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔
ٹرمپ اس دورے کو تائیوان، تجارتی جنگ اور علاقائی چیلنجز ـ بشمول آبنائے ہرمز جیسے معاملات ـ میں کشیدگی کم کرنے کا زریں موقع سمجھ رہا تھا لیکن وہ اس سے کچھ بھی حاصل نہیں کر پایا۔
تائیوان چین اور امریکہ کے درمیان ایک اہم جیو-پولٹیکل نقطۂ اشتعال (Flashpoint) بنا ہؤا ہے؛ چنانچہ ٹرمپ نے ـ جو شی جن پنگ کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا رہا تھا اور شرابنوشی کی مخالفت کے باوجود ان کی خاطر شیمپین بھی پی لیا، ـ چین سے واپسی کے بعد فاکس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
- تائیوان کا مسئلہ میری اولین ترجیح رہا ہے؛ جب سے میں نے 12 سال قبل چینی صدر سے پہلی ملاقات کی تھی۔
- جب تک میں اقتدار میں ہوں چین تائیوان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔
تاہم، چینی صدر شی جن پنگ نے امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ تائیوان کے حوالے سے کسی بھی غلط فہمی میں نہ رہے؛ اور اس معاملے پر چین کی انتہائی حساسیت پر زور دیا ہے۔ شی جن پنگ نے ٹرمپ کے دورے کے دوران امریکہ کو ایک رُو بَہ زَوال ملک بھی قرار دیا۔
تائیوان امریکہ اور چین کے درمیان براہ راست تصادم کی علامت ہے۔ سرکاری بات چیت کے باوجود چین اور امریکہ کے درمیان سلامتی کے حوالے سے کشیدگی میں کمی نہیں آئی بلکہ یہ کشیدگی دوطرفہ خطرات کی شکل میں ایک بار پھر عروج پر پہنچ گیا ہے اور کشیدگی میں یہ اضافہ براہ راست فوجی تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔
چین نے اس سے قبل تائیوان کی آزادی کی کوئی بھی شکل قبول نہ کرنے کی پالیسی کا اعلان کر دیا تھا اور یہی نقطہ نظر خطے کے حوالے سے بیجنگ کی خارجہ پالیسی کا حتمی اصول تھا۔ ان پوزیشنوں کی شدت اور واضح انتباہات میں ان کی تبدیلی اس مسئلے پر چین کی انتہائی حساسیت کو ظاہر کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد حسین حمزہ
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ