اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برکینا فاسو کے دارالحکومت واگادوگو میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کے سفیر مجتبی فقیہی نے امریکہ اور صہیونی رژیم کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1980 میں صدام حسین نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک ہفتے بعد تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرے گا، لیکن ایران نے آٹھ سال تک ڈٹ کر جنگ لڑی، ایران محفوظ رہا اور صدام تاریخ سے غائب ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی چلا جائے گا لیکن جمهوری اسلامی ایران باقی رہے گا، ان شاء اللہ۔
ایرانی سفیر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ایران ایک طاقتور ملک ہے اور اس کے عوام مزاحمت اور وطن سے محبت کے جذبے سے سرشار ہیں، جو کسی دباؤ کے سامنے جھکنے والے نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تین کروڑ سے زائد ایرانی شہری ملک کے دفاع کے لیے "جان فدایان" کے طور پر اپنا اندراج کرا چکے ہیں۔
مجتبی فقیہی نے کہا کہ وہ اس وقت بطور سفیر خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن اگر جنگ ہوئی اور ضرورت پیش آئی تو وہ سفارت کا لباس اتار کر فخر کے ساتھ رزم کا لباس پہنیں گے اور میدانِ جنگ میں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی جارحیت کے بعد ایران کے اندر سیاسی اختلافات بھی پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں تاکہ ملک کے دفاع کو اولین ترجیح دی جا سکے۔
ایرانی سفیر کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دھمکیوں اور ایرانی تہذیب کو مٹانے کی باتوں نے حتیٰ کہ حکومت پر تنقید کرنے والے ایرانیوں کو بھی وطن کے دفاع کے لیے متحد کر دیا ہے، اور اب وہ فخر کے ساتھ ایران کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔
مجتبی فقیہی نے پریس کانفرنس کے اختتام پر ساحلی افریقی ممالک کے اتحاد کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان ممالک کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
آپ کا تبصرہ