سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران مذاکرات کی بات کرنا دہشت گردوں کو محفوظ راستہ دینے کے مترادف ہے۔ پشاور میں تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں میاں افتحار حسین نے کہا کہ دہشت گرد پورے ملک میں پھیل چکے ہیں تاہم مالاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں اور ان کے خلاف جہاد جاری رکھنا ہوگا۔ میاں افتخار نے کہا کہ اگر شدت پسند اسلحہ پھینک دیں اور حکومتی رٹ تسلیم کریں تو ان کے ساتھ مذاکرات خارج از امکان نہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ سوات آپریشن شروع کرنے سے قبل جب انہوں نے شدت پسندوں سے مذاکرات شروع کئے تو خودکش حملہ آور حکومتی نمائندوں کے پیچھے کھڑے کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں نے خود عدالتیں لگائیں۔ کوڑے مارے اور خواتین کو مال غنیمت سمجھ کر تقسیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ میں عدالتی سسٹم مکمل کرلیا گیا ہے ۔میاں افتخار حسین نے چیف جسٹس افتخار چوہدری اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ دارلقضا کیلئے قاضیوں کے ناموں کا اعلان کریں ۔
17 مئی 2010 - 19:30
News ID: 181386
وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے کہا کہ شدت پسندوں نے خود عدالتیں لگائیں۔ کوڑے مارے اور خواتین کو مال غنیمت سمجھ کر تقسیم کیا۔