اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق کویت میں یکے بعد دیگرے دو عجیب قضائی احکام جاری کئے گئے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق کویت کے کریمنل کورٹ نے بزرگ کویتی عالم دین آیت اللہ محمد باقر مہری کو این تیمیہ کی توہین کے الزام میں 5000 کویتی دینار (17321۔4 امریکی ڈالر) جرمانے کی سزا سنائی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق عدالت نے روزنامہ الوطن کے چیف ایڈیٹر کو بھی، کویت کے تعلیمی نصاب سے بعض تکفیری اجزاء کو حذف کرنے کے سلسلے میں آیت اللہ مہری کا بیان شائع کرنے اور ان کے اعتراضات کو حذف نہ کرنے کے الزام میں، مبلغ 5000 کویتی دینار جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ کویتی عدالت کا دعوی ہے کہ آیت اللہ مہری نے اس بیان میں ابن تیمیہ کی توہین کی تھی!۔ان عرب ذرائع نے لکھا ہے کہ آیت اللہ محمد باقر مہری نے اپنے بیان، زیر عنوان "تکفیری شیوے ابن تیمیہ کے پیروکاروں نے وضع کئے ہیں اور انہیں حذف کیا جانا چاہئے"، میں اس موضوع کو چھیڑا ہے اور اس کے متن میں ایسی عبارتیں پائی جاتی ہیں جو مذہبی شخصیات کی شخصیت اور مقام و منزلت کو مخدوش کرتی ہیں اور معاشرے کے ایک طبقے سے لوگوں کو نفرت کی ترغیب دلانے کے زمرے میں آتی ہیں؛ اور الوطن کے چیف ایڈیٹر نے اس کا متن دیکھے بغیر اس کی اشاعت کی اجازت دی ہے۔قابل ذکر ہے کہ عدالت نے یہ حکم آیت اللہ مہری اور الوطن کے چیف ایڈیٹر کے خلاف کویتی عدالت کے وکیل "فہدالرسمان" کی شکایت پر جاری کردیا ہے۔ دریں اثناء کویت کی ایک عدالت نے اسلام دشمن روزنامے کو بری کردیا ہے۔آیت اللہ مہری اور الوطن کے چیف ایڈیٹر کو تو ابن تیمیہ کی توہین کے الزام میں سزائیں سنائی گئیں مگر دوسری طرف سے کویتی عدالت نے ایک نہایت عجیب فیصلہ سنا کر "الدار" نامی اسلام دشمن روزنامے کے چیف ایڈیٹر کو اسلام دشمنی کے ثابت شدہ الزام سے بری کردیا ہے۔اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق "عبدالرحمن الدارمی" کی صدارت میں تشکیل پانے والی عدالت نے الدار روزنامے کے چیف ایڈیٹر "خالد شطی" کو ثابت شدہ الزامات سے بری کرکے رہا کردیا ہے۔ خالد شطی اپنے روزنامے الدار میں عرصۂ دراز سے اسلام کی توہین کا ارتکاب کرتے ہوئے اسلامی احکام کا مذاق اڑانے میں مصروف ہے۔ شطی نے متعدد کالموں اور مضامین میں اسلامی احکام اور انسان کی فلاح کے لئے اسلام کے دیئے ہوئے اصولوں کو غیرانسانی قرار دیا ہے اور اس نے حال ہی میں ایک مضمون میں لکھا ہے کہ "ملکی نصاب کی کتب سے بعض اسلامی اجزاء کو حذف کیا جائے"۔ الشطی نے لکھا تھا کہ یہ اسلامی تعلیمات تشدد اور انتہاپسندی پر مبنی ہیں۔اس سے قبل طے پایا تھا کہ عدالت ایک سال کی مدت کے لئے اس روزنامے کی اشاعت بند کردے اور اس کے شائع شدہ شمارے ملک بھر سے جمع کروا کر ضائع کردے لیکن نہایت عجیب اقدام میں اس نے الشطی اور اس کے روزنامے کو الزامات سے بری کردیا!!!۔الشطی نے رہائی کے بعد کہا: "کویتی عدالت کے اس فیصلے کو سنہری حروف میں لکھا جانا چاہئے"۔عجب تضاد ہے کہ ایک عالم دین کہتے ہیں کہ نصاب کی کتابوں سے وہ مواد حذف کیا جائے جن کے ذریعے مسلمانوں کے ایک عظیم طبقے کی دل آزاری ہوتی ہے اور ان کے خلاف عوامی نفرت کی ترغیب کا باعث بنتا ہے اور یہ کہ یہ مواد ابن تیمیہ کے پیروکاروں نے پھیلایا ہوا ہے اور اس چیف ایڈیٹر کو بھی سزا دی جاتی ہے جس نے اپنے روزنامے میں یہ مطالبہ درج کیا ہے مگر دوسری طرف سے ایک شخص آتا ہے اور وہ اسلام اور قرآن کے احکام کا مذاق اڑاتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی احکام و تعلیمات کو حذف کیا جائے کیونکہ قرآن اور اسلام کی یہ احکام و تعلیمات انتہاپسندانہ ہیں!!! اور عدالت اس کو باعزت بری کردیتی ہے!!! اس تضاد کا مطلب کیا ہے؟ اس کا سبب کیا ہے؟ کیا یہ جج حضرات انصاف کے تقاضوں سے ناواقف ہیں یا پھر انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے کسی قوت کو راضی و خوشنود کرنا مقصود ہے؟ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا مسلمان اپنے گھر میں بھی آزاد نہیں ہیں؟!۔.........................
/110