5 مئی 2026 - 12:22
حصۂ اول | ایران کی تزویراتی گہرائی کے سامنے ٹرمپ کا حماسی طیش، حماسی ذلت بن گیا

ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ مل کر اسلامیجمہوریہ ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا اور اس کو مبینہ طور پر مہاکاوی غصہ (Epic Fury) کا نام دیا لیکن واشنگٹن اور تل ابیب کے لئے تاریخی حماسی ذلت (Epic Humiliation) میں بدل گئی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ اور صہیونی ریاست 'کاغذ پر' یہ سوچ رہے تھے کہ وہ ایران کی حکومت کو دو دن میں ختم کر دیں گے، سرزمینِ ایران کو تقسیم کر دیں گے اور ایرانیوں کو پتھر کے زمانے میں لوٹا دیں گے۔ اندھے-بدمست ـ مگر مسلح ـ جوڑے (ٹرمپ ـ نیتن یاہو) نے اپنے اس جاگتے کے خواب (Daydreaming) کے دو ماہ بعد، آبنائے ہرمز کھولنے پر سودے بازی کا آپشن میز پر رکھ دیا ہے جو جنگ سے پہلے کھلا تھا۔ دو ماہ بعد، تاہم حالات، بالکل مختلف ہیں:

1- لامحدود اور فرسودہ کرنے والا تعطل (بند گلی):

امریکہ جنگ میں اس مرحلے پر پہنچ گیا ہے کہ ماہرین وائٹ ہاؤس کے کرایہ داروں کے لئے حتمی فوجی یا معاشی فتح کے امکان کو قابل حصول نہیں سمجھتے۔ پینٹاگون کے لئے جنگ کے بلاواسطہ اور بالواسطہ اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ "وقت جتنا گذرتا ہے" امریکی فوجی اتنے ہی فرسودگی، تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا شکار ہو تے ہیں؛ ایسے فوجی جو ہزاروں کلومیٹر دور دو نفسیاتی مریضوں کی وجہ سے فوج کشی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

2- واشنگٹن کی مرضی کی ڈیل کا کوئی پیش منظر نہیں:

ایران اپنی آزاد فطرت اور اپنی خارجہ پالیسی پر حکم فرما عزت، حکمت اور مصلحت کے تین اصولوں اور امریکہ کے مجرمانہ مداخلتوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے تجربے (جس کا آغاز 19 اگست 1953ع‍] کی بغاوت سے ہوتا ہے) کی بنا پر وائٹ ہاؤس سے بے اعتماد ہے۔

اس خون ریز اور غیر منطقی ریاست پر بداعتمادی خاص طور پر جوہری معاہدے سے اس کی یکطرفہ علیحدگی اور دو مرتبہ مذاکرات کے درمیان دو جنگیں مسلط کرنے کے بعد اور بھی بڑھ گئی ہے۔ نہ صرف ایرانی بلکہ دوسرے بھی واشنگٹن کی بات اور رویے پر اعتماد نہیں رکھتے، چاہے وہ خوف کی وجہ سے زبان بند کئے بیٹھے ہوں؛ ایسا خوف جو کبھی تو ختم ہو ہی جائے گا۔

دنیا کا پچھلا 80 سالہ تجربہ بتاتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت گوریلے کے ساتھ شطرنج کھیلنے کے مترادف ہے۔ اس لئے امریکہ کے ساتھ ایک جامع یا حتیٰ کہ محدود معاہدے تک پہنچنا ہمیشہ مشکل رہا ہے، اور ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے اسے اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔

3- پہل کی تہران کی طرف منتقلی:

ایران نے آبنائے ہرمز کے ذہین انتظام کے ذریعے ایک اسٹراٹیجک اوزار حاصل کر لیا ہے۔ امریکہ کے پاس کوئی چارہ نہیں سوا اس کے کہ وہ تین آپشنز (بھرپور جنگ، بے نتیجہ محاصرہ، یا پسپائی) میں سے ایک کا انتخاب کرے۔

مغرور صدر اور فرعون جیسی خصوصیات کے حامل ٹرمپ کے لئے ان میں سے کسی بھی آپشن کی لاگت اس کے فائدے سے زیادہ ہے۔ تنازعہ جتنا زیادہ طویل ہوتا جائے گا، امریکی فوج کا کی کمزوری اور زدپذیری ـ جسے دہائیوں سے ہالی ووڈ کے پروپیگنڈے کی مدد سے ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا ـ امریکہ کے دشمنوں، حریفوں، یہاں تک کے اس کے اتحادیوں کے لئے اتنا ہی زیادہ عیاں ہوتی جائے گی، اور یہ رسوائی ناقابل تلافی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ڈاکٹر حسن عابدینی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha