17 مئی 2010 - 19:30

شیعیان یمن کی مجلس اعلی کے سابق سربراہ ڈاکٹر عصام العماد نے شیعیان یمن کے خلاف چھتی جنگ کا جائزہ لینے کی غرض سے منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "دشمن شناسی تشیع کی بقاء کا راز اور مذہب تشیع کے فروغ کا بنیادی سبب ہے"۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شیعیان یمن کی مجلس اعلی کے سابق سربراہ ڈاکٹر عصام العماد نے مدرسہ علمیہ "امام خمینی رحمۃاللہ علیہ میں" شیعیان یمن کی خلاف حالیہ جنگ کے آثار و نتائج کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا: بعض پیروان اہل بیت (ع) کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مکتب اہل بیت (ع) کی بہتر شناخت نہیں رکھتے اور تشیع کی صحیح معرفت سے محروم ہیں گو کہ ممکن ہے کہ وہ نظری لحاظ سے اپنے مکتب کی تعلیمات سے بخوبی آگاہ ہوں مگر عملی لحاظ سے ایسے نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: شیعیان اہل بیت (ع) کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دشمن کو بخوبی پہچانتے ہیں اور جو لوگ موجودہ زمانے میں اس مکتب کی طرف رجوع نہیں کرتے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن شناسی کی قوت حاصل نہیں کرسکے ہیں اور ایسے بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں جو ان کے سامنے دشمن شناسی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور یہ مشکل ابتدائے ظہور اسلام سے اب تک موجود ہے۔ انھوں نے دشمن شناسی کو مکتب تشیع کی بقاء اور فروغ کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا: ہمیں ہر زمانے میں بصیرت کے ہتھیار سے لیس ہونا چاہئے اور دوست اور دشمن کی درمیانی حدود کی تشخیص کے حوالے ہوشیار رہنا چاہئے۔ ڈاکٹر عصادم العماد نے یمن کی الحوثی تحریک کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: الحوثی تحریک اور اس کے راہنماؤں کے افکار امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے افکار، نظریات اور اہداف و مقاصد سے متأثر ہیں اور رہبر معظم انقلاب اسلام حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای اور سید حسن نصراللہ کے ساتھ ان کا جذباتی تعلق نہایت واضح اور نمایاں ہے۔ انھوں نے کہا: یمن کی حکومت الحوثی تحریک سے خوفزدہ ہے اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ حوثیوں نے سیاسی شعبے میں صحیح طور پر کام کیا ہے اور چونکہ وہ زیدیوں کے درمیان جعفری افکار و تعلیمات کے فروع کی کوشش میں مصروف ہیں لہذا زیدی بھی اس وقت ان کی قیادت میں کام کرنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110