17 مئی 2010 - 19:30

دہشت گردوں کا ہدف اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کی عمارت تھی، جو کہ مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایف آئی اے کی عمارت پر خودکش کار بم حملہ کیا گیا ہے ، جس کے نتیجے میں دو خواتین سمیت11افراد جاں بحق اور61زخمی ہوگئے ،دھماکے سے عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی جبکہ کئی قریبی عمارتوں کوشدید نقصان پہنچا۔
ماڈل ٹاؤن میں صبح 8بج کر 15منٹ پرڈاکٹر اسرار احمد کے مدرسہ کے قریب ایف آئی اے کے اسپیشل انوسٹی گیشن کے یونٹ کی دو منزلہ عمارت میں دھماکاہوا،جہاں خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی عمارت سے ٹکرادی، جس سے عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور قریبی مکانات اور دیگر عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر تک سنی گئی اور دھماکے کی جگہ پر 18فٹ چوڑا اور 16فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا۔
کمشنر لاہور خسرو پرویز نے بتایا کہ دھماکے میں ایک راہ گیر طالبہ اور خاتون سمیت 11افراد جاں بحق ہوئے،جبکہ 61افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 29کی حالت تشویشنا ک ہے.
 انہوں نے بتایا کہ عمارت کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتاہے.
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا ہدف اسپیشل انوسٹی گیشن کی عمارت تھی، جو کہ مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔
خسرو پرویز کے مطابق حملہ آور کے (K) بلاک سے اندر داخل ہوئی۔
ڈی سی او لاہور سجاد بھٹہ کا کہنا ہے کہ دھماکے میں600 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کہنا تھا کہ 800 کلو گرام سے زائد دھماکا خیزمواد استعمال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق حملے میں سی فور دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے ایس آئی یو کی عمارت تباہ اور قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
ایک قریبی گھر میں بھی دھماکے کی شدت سے ایک شخص چل بسا۔
دھماکے کے بعد ایمبولینسز اور امدادی کارکن موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کام شروع کر دیا گیا۔
علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر جاوید اکرام نے بتایا کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے ہڑتال کی کال دے رکھی تھی لیکن حادثہ کے بعد وہ بھی ہڑتال ختم کر کے ڈیوٹی پر آگئے ہیں۔ اسپتال میں او پازیٹو خون کی کمی ہے، اور شہریوں سے زیادہ سے زیادہ خون کے عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
واضح رہے 11مارچ 2008 کو بھی ماڈل ٹاؤن ایف بلاک اور اور ٹیمپل روڈ پر ایف ائی اے کی عمارتوں میں دھماکے کئے گئے تھے۔

بشکریہ از ڈیلی اوصاف

۔۔۔۔

ایک بے تهکا خیال:

11مارچ 2008 کو بھی ماڈل ٹاؤن ایف بلاک اور اور ٹیمپل روڈ پر ایف ائی اے کی عمارتوں میں دھماکے کئے گئے تھے اور اب دوبارہ اس بلڈنگ میں دھماکہ ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مارچ 2008 کے دھماکوں کے ملزم زندہ اور سلامت ہیں اور ایجنسیوں کے اندر دہشت گردوں سے وابستہ کالی بھیڑیں بھی موجود اور فعال ہیں اور یہ کہ ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ یہیں کہیں لاہور میں یا آس پاس کے شہروں میں ہیں۔ دریں اثناء روزنامہ جنگ نے حال ہی میں گورنر سلمان تأثیر کی طرف سے وزیراعلی شہباز شریف کے نام ایک تنبیہی خط کی رپورٹ شائع کی ہے جس میں شہباز صاحب پر دہشت گردی کی سرکاری سرپرستی کا الزام ہے اور یوں کہ انھوں نے دو بدنام زمانہ اور سزا یافتہ دہشت گردوں کو چپکے سے رہا کردیا ہے!!! کہیں وہی تو اس حملے کی پشت پر نہیں ہیں؟!!

تفصیل کے لئے رجوع کریں:

ـ پنجاب حکومت نے جھنگ کے ضمنی الیکشن کیلئے دودہشتگرد رہا کر دیئے