17 مئی 2010 - 19:30

انتخابات سے قبل ہی بعثیوں نے دھاندلی کے امکانات کا پروپیگنڈا شروع کردیا تھا اور کل انتخابات شروع ہوتے ہے انھوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پر دھاندلی کا الزام لگایا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بعثیوں نے انتخابات سے قبل دہشت گردی کی کاروائیوں کے ذریعے انتخابات کا راستہ روکنے میں ناکامی کے بعد، انتخابات شروع ہوتے ہی پہلے سے تیارکردہ سازش کے مطابق، دھاندلی کا الزام لگایا اور انتخابات میں اپنی ناکامی کی پیشین گوئی کرتے ہوئے دھاندلی کو اپنی شکست کا سبب قرار دیا۔ کہا جاتا ہے کہ بعثیوں کو بعض عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے اور العراقیہ الائنس کے سربراہ نے حال ہی میں سعودی بادشاہ سے ملاقات کرکے ان سے مالی امداد کے ساتھ بعض ہدایات بھی دریافت کی تھیں، اور ایاد علاوی نے کل صبح ہی سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کردیئے۔ ایاد علاوی اور ان کے بعثی رفقائے کار ان الزامات میں تنہا نہیں ہیں بلکہ بعثیوں کے لئے خدائی خدمتگار کے عنوان سے کام کرنے والے ذرائع ابلاغ نے بھی وسیع سطح پر ایاد علاوی کے الزامات کو زبردست کوریج دینا شروع کی ہے۔ بعثیوں کی جانب سے "وسیع دھاندلی" کا الزام اس وقت "الانبار"، "الشرقیہ" اور "البابلیہ" ٹیلی ویژن چینلز کا موضوع بحث بنا ہوا ہے مگر یہ نجی ٹی وی چینلز بھی اس الزام میں تنہا نہیں ہیں بلکہ سعودی عرب سے وابستہ چینلز بھی "التزویر = دھاندلی" کا لفظ چبا چبا کر اپنے ناظرین کے ذہنوں کو مغشوش کررہے ہیں امریکی ذرائع ابلاغ بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سے قبل امریکیوں نے سعودی اور برطانوی ذرائع ابلاغ کی مدد سے ایران کے عظیم انتخابات کو متنازعہ بنانے کی غرض سے دھاندلی کا الزام لگایا تھا اور ملک میں کلر ریوالوشن کی کوشش کی تھی اور اس کے بعد افغانستان کے انتخابات میں بھی کرزئی کو بلیک میل کرنے کے لئے یہی شیوہ اپنایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ عراق میں بعثیوں کو سیاسی عمل سے دور کردیا گیا ہے مگر امریکیوں اور عرب ممالک کی کوشش ہے کہ ان کو دوبارہ فعال کرکے عراق میں اقتدار تک پہنچائیں۔ سعودی بادشاہ نے ایاد علاوی سے کہا ہے کہ اگر "امریکیوں کے تعاون کے باوجود" انہیں انتخابات میں ناکامی ہوئی تو افواج میں موجود بعثی عناصر کی مدد سے فوجی بغاوت کرکے منتخب "شیعہ حکومت کا تختہ الٹ دیں"۔یادرہے کہ عراق کی اکثریتی شیعہ آبادی کے پیش نظر گذشتہ انتخابات میں اہل تشیع کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی تھی اور عراق میں شیعہ جماعتوں نے حکومت تشکیل دی تھی اور ارد گرد کے غیر منتخب عرب حکمرانوں کو عراق میں جمہوری عمل سے شدید تکلیف ہوئی تھی۔ مگر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ شیعہ حکومت کے قیام سے انہیں زیادہ تکلیف ہوئی تھی یا عراق میں جمہوریت کا فروغ ان کے لئے زیادہ تکلیف دہ تھا!؛ چنانچہ صدام آمریت کے بعد دوسرے پارلیمانی انتخابات سے قبل امریکی حکام نے عراق کا دورہ کیا اور عراقی حکومت پر بعثیوں کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا اور بعض عرب ممالک نے بھی امریکیوں کے ساتھ مل کر بعثیوں کی حمایت کی؛ عراق میں امریکیوں، خطے کے انتہاپسند عرب حکمرانوں اور صدام کے ساتھیوں نے بعثیوں کو دوبارہ اقتدار دلانے کے لئے زبردست کوششوں کا آغاز کیا؛ امریکیوں اور عربوں نے مل کر شیعہ الائنس کو شکست دینے کے لئے کوششوں کا آغاز کیا اور اب جبکہ وہ اس کوشش میں کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے تو انھوں نے "وسیع دھاندلی = التزویر = Rigging" کا شوشہ چھوڑا؛ وہ درحقیقت رائے عامہ کو مشکوک اور انتخابات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں گو کہ عراقیوں نے آنے والے دنوں میں ملک امن و امان کو مخدوش کرنے کی کسی بھی کوشش کا راستہ روکنے کے لئے اقدامات کرلئے ہیں۔عراقی انتخابات میں طالبانی اور بارزانی کی کرد الائنس کے ساتھ ایاد علاوی کی قیادت میں العراقیہ الائنس کے ساتھ ساتھ ابراہیم الجعفری اور نوری المالکی کی دو شیعہ الائنسوں نے بھی حصہ لیا ہے اور امریکیوں کے مشاہدات و مطالعات اور تحقیقات سے واضح ہوگیا ہے کہ ان انتخابات میں بھی شیعہ اکثریت کو ہی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور انتخابات کے نتائج بہر صورت امریکی مفادات کے لئے نقصان دہ اور مشرق وسطی کے خطے میں امریکہ مخالفت مزاحمت کے فائدے میں ہیں۔ الشرقیہ ٹیلی ویژن چینل کے سربراہ "البزاز" ہیں جو صدام کے قریبی ساتھی ہیں اور صدام آمریت کے دوران سرکاری مراعات سے بہرہ مند تھے۔ انھوں نے انتخابات میں مشاہدہ کیا کہ بعث پارٹی کے قریبی امیدواروں کو عراقی عوام کی طرف سے عدم توجہ کا قریب سے مشاہدہ کیا اور ابھی انتخابات جاری تھے کہ بزاز نے کہا: "انتخابات کے بعد بعث پارٹی کے حامی خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ملک نا امنی کا شکار ہوجائے گا!"الشرقیہ ٹیلی ویژن کے براہ راست پروگرام میں چینل کا اناؤنسر ناظرین سے مسلسل یہی سوال پوچھتا رہا کہ "کیا عوام دھاندلی کو قبول کرلیں گے؟" اور یہ کہ "اگر دھاندلی ہوئی تو اس کا انجام کیا ہوگا؟" ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایک نام نہاد ناظر نے کہا: "اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو بعث پارٹی کے حامیوں کا غیظ و غضب بم کی طرح دھماکے سے پھٹ جائے گا" اور لگتا ہے کہ یہ سب پیشگی سازش کے تحت اور آنے والے دنوں میں کشت و خون کا بازار گرم کرنے کی نیت سے ہورہا ہے۔ایک عراقی شیعہ راہنما "سید مقتدا صدر" نے انتخابات سے قبل ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انتخابات کے بعد امریکیوں کی ایماء پر عراق میں ممکنہ بلووں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔امریکی حکمران ـ جو بظاہر تو عالم اسلام میں جمہوریت نہ ہونے کا رونا روتے ہیں اور ساتھ ہی عرب دنیا میں آمریتوں اور شہنشاہیت کی حمایت کررہے ہیں ـ گذشتہ چند مہینوں کے دوران مختلف ممالک میں بلووں کی حمایت کی ہے اور اب عراق کی باری ہے جہاں انھوں نے ایسے معاہدے پر دستخظ کردیئے ہیں جس کے تحت انہیں اپنی فوجیں 2011 میں اس ملک سے واپس بلانی ہیں اور انہیں توقع ہے کہ اگر اس ملک میں جمہوریت کو سبوتاژ کیا جائے تو وہ عراق میں لمبے عرصے تک قیام کرسکیں گے اور اس سلسلے میں انھوں نے ایاد علاوی اور شیعہ مخالف قوتوں سے پیشگی وعدے بھی لئے ہیں۔افغانستان میں امریکیوں نے کرزئی سے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے کے لئے عبداللہ عبداللہ کی طرف سے دھاندلی کے الزامات کی حمایت کی اور یوکرین میں بھی مخملی انقلاب  (Velvet Revolution)کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والی وزیر اعظم کو انتخابات میں شکست ہوئی تو امریکہ نے اس کی حمایت کی اور اس نے دھاندلی کا الزام لگایا مگر اس بار اسے کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ ایران میں صدارتی انتخابات ابھی جاری تھے کہ میرحسین موسوی نے اپنی کامیابی کا اعلان کیا اور مغربی ذرائع ابلاغ نے ان کا ساتھ دیا۔ موسوی نے کہا تھا کہ "ان کی عدم کامیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے" اور امریکیوں اور برطانویوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے انہیں زبردست کوریج دے کر ایران کے بے مثل انتخابات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی مگر جب کامیابی حاصل نہ ہوئی تو میرحسین موسوی اور مہدی کروبی نے انتخابات میں ڈاکٹر احمدی نژاد کی کامیابی کو تسلیم کیا اور ان کے ساتھیوں نے بھی کہا کہ دھاندلی کا الزام درحقیقت بغاوت کا کوڈ ورڈ (خفیہ اشارہ) تھا جبکہ انتخابات میں دھاندلی کا ایران میں امکان ہی نہیں ہے۔ حکومت عراق نے اعلان کیا ہے کہ جن لوگوں کو انتخابات کے نتائج پر اعتراض ہے وہ انتخابات کے لئے قائم شدہ عدالت کی طرف رجوع کریں اور اگر ان کے الزامات درست ثابت نہ ہوئے تو ان پر مقدمہ چلایا جائے گا اور جھوٹے الزامات لگانے والوں کو سزا دی جائے گی۔.............................../110رپورٹ ملاحظہ ہو:

ایاد علاوی کے ساتھ سعودی بادشاہ کے مذاکرات کی ان کہی باتیں/ سعودی عرب عراق پر اہل تشیع کی حکمرانی نہیں چاہتا۔