بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، لبنانی اخبار "الاخبار" نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ نے نام نہاد امن کمیٹی کی سربراہی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ فنڈ میں آنے والی رقم اپنے دستخطوں سے غاصب اسرائیلی ریاست کو منتقل کی ہے۔ اور مذکورہ ٹیم کے نمائندے نیکولائی میلادینوف نے اعلان کیا ہے کہ غزہ فنڈ مکمل طور پر خالی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران پر امریکی-صہیونی حملے کے موقع پر ہی، نیکولائی میلادینوف نے نام نہاد کمیٹی کے اراکین کو اطلاع دی ہے کہ غزہ کے لئے مختص فنڈ میں کوئی رقم نہیں ہے۔
الاخبارکے مطابق، میلادینوف نے جھوٹ بولا تھا اور اس کے اعلان کے موقع پر رقم فنڈ میں موجود تھی لیکن اس کے اعلان کے ساتھ ہی یہ رقم امریکی صدر ٹرمپ کے براہ راست حکم پر اسرائیل کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی!!!
میلادینوف نے بعدازاں مذکورہ کمیٹی کے ساتھ ایک میٹنگ میں کہا کہ ٹرمپ نے غزہ کی تعمیر نو کے لئے مختص 17 ارب ڈالر کی رقم، مبینہ طور پر ڈیوس (Davos) کانفرنس میں طے شدہ مفاہمت کے تحت اسرائیل کو منتقل کی ہے۔
اس واقعے سے ثابت ہؤا ہے کہ ٹرمپ سب کچھ اسرائیل کے لئے چاہتا ہے، فرسٹ امریکہ کا نعرہ اب فرسٹ اسرائیل میں بدل گیا ہے اور وہ اسرائیل کی خاطر غزہ کے مظلوموں کے حقوقپ پر ڈآکہ ڈال سکتا ہے۔ کسی نے کہا تھا کہ ٹرمپ نے ایپسٹین کیس میں اپنی بچہ خوری کیس سے جان چھڑانے کے لئے ـ اسرائیل کی خاطر ـ ایران پر حملہ کیا اور امریکی سلطنت کو حقیقتا خطرے میں ڈال دیا تو اگر وہ اسرائیل کی خاطر غزہ کے مظلوموں سے چوری کرے تو یہ ہرگز باعث حیرت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ