
ایران کے مشہور مذہبی اسکالر اور حوزہ علمیہ قم سےحجت الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان پاکستان کے دورے پر آج صبح بروز پیر کراچی پہنچے جہاں پر انہوں نے کراچی کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ کراچی میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سیمینار بعنوان "اسلام دین فطرت"ہے پر خطاب کیا۔ اس موقع پر شعبہ کے سئینر ترین پروفیسر ڈاکٹر احسان لحق، ڈاکٹر زاہد علی زاہدی اور ڈاکٹر غلام مہدی کے علاوہ ڈاکٹر سجاد استوری نے آغا پناہیان کا استقبال کیا اور دعوت قبول کرنے اور جامعہ کراچی میں آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔سیمینار میں جامعہ کے اساتذہ کے علاوہ طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکائے محفل سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے فرمایا کہ میں انتہائی خوشی محسوس کررہا ہوں کہ اپنے پاکستانی بھائیوں کے درمیان موجود ہوں اور خدا کا شکر گزار ہوں کہ مجھے آپ جیسے اچھے لوگوں کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے "اسلام دین فطرت" کے عنوان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو کہ انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو کمال تک لے جاتا ہے جب کہ دنیا کے کسی اور مذہب میں یہ خصوصیت نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمنان خدا و دین نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے رسولوں اور پیغمبروں کو قتل کر کے اللہ کی دعوت کو ختم کرنے کی کوشش کی مگر خدا نے اسے باقی رکھا اور ہمارے لئے یہ بات انتہائی فخر کا باعث ہے کہ خداوند کریم نے ہمیں دین اسلام میں رکھا۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کو کوئی استاد، عرفان کی اعلیٰ ترین منازل تک لے جائے تو اس انسان کو خود اپنے اندر ہی جھانک لینا چاہئیے اور یہ ادراک کرنا چاہئیے کہ آخر وہ خود کیا ہے اور کیوں ہے؟ان کا کہنا تھا کہ عرفان کی اعلیٰ ترین منازل طے کرنے کا واحد راستہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم جب بھی اذان کی آواز سنیں تو ہمیں اپنے آپ سے یہ کہہ دیں کہ ہمیں نماز ادا کرنی ہے اور یاد رکھیں کہ نماز اول وقت پر ادا کرنا ہی عرفان کی اعلیٰ سطح تک لے جاتا ہے۔انہوں نے حضرت امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ان اشعار کو دہرایا کہ جن کا مفہوم اس طرح سے ہے کہ امام راحل فرماتے ہیں کہ جتنی زحمات اور مشکلات میں نے اللہ کے قرب حاصل کرنے میں اٹھائی ہیں اتنی خدا سے دور ہونے میں نہیں اٹھانی پڑتیں۔آغا پناہیان نے شہادت امام حسین علیہ السلام پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کی شہادت کا اصل مقصد ہی انسانیت کی بقاء تھا، کیونکہ ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام سب کچھ جانتے تھے اور اپنے اہل و عیال کے ہمراہ شہادت کی منزل کی طرف گامزن تھے اور آخرکار آپ علیہ السلام نے وہ منزل طے کرلی جس کی طرف آپ علیہ السلام گامزن تھے۔انہوں نے کہا کہ انسان کو سوچنا چاہئیے کہ اس کی خلقت کا مقصد کیا ہے اور انسان کو آخر اس دنیا میں کیوں بھیجا گیا؟ اگر انسان ان تمام باتوں پر غور و فکر کرے تو یقینا مثبت نتائج کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اسلامی احکامات کو عملی زندگی میں اپنانے پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ احکامات اسلامی کو پوری طرح قبول کرنا ہے نہ کہ صرف اپنی پسندیدہ باتوں کو قبول کریں اور باقی چھوڑ دیں یہ سراسر ناانصافی اور غلط اقدام ہے، لہذٰا اسلامی قوانین کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں تا کہ ہم سب اسلام کے سچے پیروکاروں میں شمار ہوں۔ اس موقع پر طلباء طالبات نے آغا پناہیان سے سوالات کئے جس پر آغا نے طلباو طالبات کو جوابات دئیے،بعد ازاں دعا سے پروگرام کا اختتام کیا گیا۔152/