17 مئی 2010 - 19:30

ایران کے حوزات علمیہ کے سربراہ آیت اللہ مقتدائی نے کہا: جامع الشرائط ولی فقیہ نظام اسلامی کی چوٹی پر ہیں چنانچہ داخلہ اور خارجہ امور کی بنیادی پالیسیوں میں ان کا کلام فیصلہ کن اور فصل الخطاب ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی _ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق"دینی تفکرات میں بصیرت پر غور" کے عنوان سے منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے بصیرت کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کے کلام کی طرف اشارہ کیا اور کہا: عوامی آگہی و بصیرت پر رہبر انقلاب کی تأکید کے بعد اس جیسے سمیناروں کی جگہ خالی محسوس ہورہی تھی۔ انھوں نے دینی احکام کی تبلیغ میں حوزہ ہائے علمیہ کے کردار و ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بصیرت و آگہی تبلیغ دین کا لازمہ ہے اور حوزات علمیہ کو سنجیدگی کے ساتھ بصیرت کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ جب تک حوزات علمیہ میں بصیرت نہ ہوگی بصیرت کا فروغ بھی ممکن نہ ہوگا۔انھوں نے کہا: انبیاء علیہم السلام تبلیغ دین کے واسطے مبعوث ہوئے اور یہی وہ فریضہ ہے جو تمام علماء، فضلاء اور اہل دانش کے لئے ثابت ہے اور وہ ذمہ داری ہے جو قرآن مجید نے علماء پر عائد کر رکھی ہے ... اللہ کی طرف دعوت اور اور تبلیغ بصیرت و آگہی پر مبنی ہونی چاہئے اور یہ وہی عمل ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انجام دیا یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو فرماتے تھے اس پر یقین بھی رکھتے تھے اور عمل بھی کیا کرتے تھ ... اللہ کی طرف دعوت دینا اور بلانا صرف پیغمبر اکرم (ص) تک محدود نہیں ہے بلکہ ائمہ معصومین (ع)، علماء، فقہاء اور دانشوران بھی اس منصب کے حامل ہیں۔انھوں نے علماء و مبلغین احکام دین کی شان کے بارے میں قرآن مجید کی آیت " إِنَّمَا يَخْشَى اللہ مِنْ عِبَادِہ الْعُلَمَاء = بے شک  علماء ہے اللہ سے ڈرتے ہیں" (سورة فاطر آیت 28) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: خشیت خوف سے جدا ہے اور جو لوگ بصیرت حاصل کرچکے ہیں اور اللہ کے علم و یکتائی کی طرف توجہ کرتے ہیں وہ اللہ سے خائف رہتے ہیں۔انھوں نے کہا: عبادت خلقت کا مقصد ہے اور جب انسان صاحب بصیرت ہوگا وہ اللہ سے خشیت کرے گا اور جو اللہ سے خشیت کرے گا وہ اللہ کی عبادت کرے گا … دین بھی بصیرت کے بغیر میسر نہیں ہے اور حوزہ ہائے علمیہ کو چاہئے کہ علم و دانش کے ذریعے یہ اوصاف اپنے اندر وجود میں لائے تا کہ تبلیغ کی شرط بھی پوری ہوجائے ... حوزات علمیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ میں بصیرت پیدا کرے اور اگر کوئی طالبعلم مقام بصیرت پر فائز نہ ہوسکا ہو یا حصول بصیرت کی خاطر محنت اور جدوجہد نہ کرے یا اپنی جدوجہد میں اخلاص کی خصوصیت سے عاری تو ہو وہ نہ تبلیغ دین کرسکتا ہے اور نہ ہی اللہ کی عبادت کرسکتا ہے اور نہ ہی دوسروں کو بصیرت عطا کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا: ایران میں اسلامی و الہی نظام کا قیام امام خمینی (رح) کے انفاس قدسیہ، اللہ پر توکل اور اور ان کی خوداعتمادی کی بنیاد پر وقوع پذیر ہوا ... انقلاب اسلامی کی جِریں دین میں پیوست ہیں اور اس کے رہبر نے بھی بصیرت و آگہی کی بنیاد پر اس نظام کو قیام کیا۔انھوں نے 22 بہمن کے روز عوام کے آگاہانہ اور بصیرت پر مبنی حضور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: 22 بہمن کے روز 5 کروڑ عوام کی ریلیوں میں شرکت عوام کی آگہی اور نظام اسلامی اور اس کی قیادت کی شناخت سلسلے میں عوام کی نہایت اعلی بصیرت و شناخت پر استوار تھی ... ایران کا اسلامی نظام دنیا کا واحد مشروع اور جائز و قانونی نظام ہے لوگوں نے اس نظام کی قیام کے لئے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور انہیں معلوم ہے کہ انہیں اتنی عظیم قربانیوں کے عوض کتنی بڑی نعمت عطا ہوئی ہے۔انھوں نے ملک میں ولایت فقیہ کے مقام و منزلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جامع الشرائط ولی فقیہ نظام اسلامی کی چوٹتی پر ہیں چنانچہ داخلہ اور خارجہ امور کی بنیادی پالیسیوں میں ان کا کلام فیصلہ کن اور فصل الخطاب ہے... ہمارے ملک کا رہبر دینی اور سیاسی ہے اور عوام اپنے رہبر کی صحیح معرفت رکھتے ہیں انہیں دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں اور انہیں لالچ بھی دی جاتی ہے اور ان کو مختلف قسم کے مسائل کا بھی سامنا ہے مگر 22 بہمن کے روز سارے مسائل کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سڑکوں پر آتے ہیں اور ہاں بعض ایسے بھی ہیں جو بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے منحرف بھی ہوجاتے ہیں۔انھوں نے کہا: قرآن مجید گواہ ہے کہ محنت و جدوجہد میں کاہلی اور  محنت و اخلاص کا فقدان اس انحراف کا منشأ اور سرچشمہ ہے؛ ہماری ملت کو چاہئے کہ اس طرح کے افراد کو ہٹادیں اور جان لیں کہ ان لوگوں کی نیت خالص اور خدائی نہیں ہے اور یہ لوگ حزب شیطان میں سے ہیں اور انہیں معاشرے کی جانب سے گھر بھجوایا جانا چاہئے۔............../110