17 مئی 2010 - 19:30

کویت کے عوام، علمائے دین اور اراکین پارلیمان نے "و ذَکِّر" نامی مرکز کی طرف سے اہل تشیع کی توہین پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شیعہ تعلیمات کی تدریس اور مراکز فتنہ کی بندش کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کویتی رکن پارلیمان "صالح عاشور" نے "و ذَکِّر" مرکز  کے اقدامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اس وقت جبکہ کویت کو زیادہ سے زیادہ حکمتِ عمل  اور اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے مذکورہ مرکز کے کارکن ملک میں فرقہ وارانہ تنازعات شروع کرانے کے درپے ہیں۔ انھوں نے کہا: کویت کی وزارت داخلہ، وزارت اطلاعات اور کویت سٹی کی میونسپلٹی ان اقدامات کا سد باب کرنے میں تأخیری حربے استعمال کرنے کی بنا پر اہل تشیع کے روبرو جوابدہ ہیں۔ انھوں نے کویت کے علماء سے بھی اپیل کی ہے کہ کویت کی قومی یکجہتی کی حفاظت کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔انھوں نے کہا: نہ جانے اس مرکز کے اہلکاروں فقہی اور شرعی منزلت کیا ہے کہ اس طرح بیانات، فتاوا اور مضامین شائع کرنے میں پوری طرح آزاد ہیں؟!یادرہے کہ اسی مرکز نے محرم الحرام اور ایام عاشورا کے دوران بھی شیعہ عقائد کی توہین کی تھی جس کی وجہ سے کویتی عوام کے جذبات کو زبردست ٹھیس پہنچی تھی؛ اسی مرکز نے حال ہی میں ایک مضمون شائع کرکے شیعہ اور سنی، علماء اور عوام سمیت اراکین پارلیمان کو بھی غم و غصے میں مبتلا کردیا ہے۔ اس سے قبل اسی مرکز نے یوم عاشورا کو "یوم سُرور" کا نام دیا تھا اور حالیہ مضمون نے اس انتہاپسند مرکز نے شیعیان اہل بیت (ع) سے کہا ہے کہ وہ اپنے عقائد سے توبہ کریں!۔کویتی علماء، اہل تشیع اور اراکین پارلیمان نے و ذکر نامی مرکز کے موقف کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مرکز کے اہلکاروں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے۔ کویت کے شیعہ رکن پارلیمان "فیصل الدویسان" نے وزارت داخلہ اور وزارت اطلاعات سے مطالبہ کیا ہے کہ غم و غصہ ملک گیر ہونے سے قبل ہی اپنے فرائض منصبی پر عملدرآمد کریں۔انھوں نے کہا: وذکر مرکز کا سربراہ اور اس کے کارکنان [ابو لہب کی بیوی اور ابوسفیان کی بہن]"حمالة الحطب (لکڑیوں کا گٹھا اٹھانے والی) کی مانند کویت میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ کویت میں پرامن فضا کے قیام اور قومی یکجہتی کی حفاظت کی خاطر فقہ جعفریہ کی تدریس لازمی قرار دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ کویت میں شیعہ عقائد کے بارے میں غلط تصورات پائے جاتے ہیں اور وہابی اور تکفیری اہل تشیع کے خلاف ان ہی منفی اور غلط تصورات کی بنا پر زبان درازی کرتے ہیں چنانچہ میری تجویز ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت اور فقہ کو بھی ملک کے لازمی نصاب تعلیم میں جگہ ملنی چاہئے تا کہ ان منفی تصورات کا خاتمہ ہو اور ملکی یکجہتی پر حرف نہ آنے پائے۔انھوں نے کہا کہ وزارت تعلیم اور اعلی تعلیم کے ادارے اسلامی تربیت و احلاق کے ضمن میں بھی شیعہ تعلیمات کی تدریس کو لازمی قرار دیں اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کے لئے اقدام کریں۔ انھوں نے زور دے کر کہا: کویت کی ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی کے لئے شیعہ اور سنی بچوں کے درمیان قربت کو تقویت ملنی چاہئے۔ الدویسان نے اہل بیت رسول (ص) کی نسبت کویتی عوام کی ناآگاہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کویتی عوام اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں معلومات وہابیت سے حاصل کرتے ہیں جبکہ کویت کی ایک تہائی آبادی شیعیان اہل بیت (ع) پر مشتمل ہے جنہیں اپنے ائمہ (ع) اور ان کی سیرت اور فقہ کے بارے میں آگاہ و مطلع رہنا چاہئے۔ انھوں نے کہا: میری تجویز صرف اور صرف قومی یکجہتی اور عوام کے درمیان الفت و محبت کی خاطر ہے اور اس کی حقیقت اس وقت زیادہ واضح ہوجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اہل سنت کے دو بڑے امام "امام مالک" اور "امام ابوحنیفہ" امام صادق علیہ السلام کے شاگرد تھے۔کئی دیگر اراکین پارلیمان منجملہ عدنان المطوع اور ناجی عبدالہادی نے اس قسم کے اقدامات کے اعادے کا الزام حکومت کویت پر عائد کیا اور کہا: کویتی پارلیمان کے بعض گروپ بھی اس قضیئے کی پشت پر ہیں اور ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔ دریں اثناء سابق کویت کے سابق وزیر اور کویتی انسانی حقوق سوسائٹی کے سربراہ "علی البغلی" نے و ذکر مرکز کی طرف سے تفرقہ انگیز مضامین کی اشاعت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا: کویت کی تاریخ میں کبھی بھی اس طرح کے اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔

..................................../110

علماء کا رد عمل:

۔ نامور کویتی شیعہ عالم دین: فتنہ کے مراکز بند کرو