17 اپریل 2010 - 19:30

انٹرپول نے حماس رہنما محمود المبحوح کے قتل کے الزام میں11 ملزمان کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے ۔حماس رہنما کے قتل کا واقعہ 20جنوری کو دبئی کے ایک ہوٹل میں پیش آیا ۔

دبئی حکام نے 11یورپی افراد پر قتل میں ملوث ہونے اور اس سلسلے میں مدد فراہم کرنے کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی۔ملزمان میں سے 6 برطانوی پاسپورٹس پر دبئی پہنچے جبکہ3 نے آئرش اور بقیہ دو نے فرانسیسی اور جرمن پاسپورٹ کا استعمال کیا۔دبئی حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ قتل کے واقعے میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد ملوث ہے ۔دبئی حکام کی درخواست پر انٹرپول نے ملزمان کی تصاویر اور وہ جعلی نام شائع کرتے ہوئے ریڈ وارنٹ جاری کئے۔ جوانہوں نے دبئی میں داخلے کے لیے استعمال کیے تھے۔انٹرپول کا کہنا ہے کہ تصاویر اور نام شائع کر نے کا مقصد یہ ہے کہ ملزمان جعلی پاسپورٹس کو استعمال کرتے ہوئے دوبارہ سفر نہ کر سکیں۔ ادھر برطانوی وزیرِخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ دبئی میں حماس رہنما کے قتل میں برطانوی پاسپورٹس اور شناخت کے استعمال کی تفتیش ہوگی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل تفتیش میں مکمل تعاون کرے گا ۔برطانیہ میں حکومت کے علاوہ حزب اختلاف کی کنزرویٹو جماعت کے سربراہ ڈیوڈ کیمرون نے بھی اسرائیلی سفیر کو طلب کرکے ان سے سخت سوالات کئے۔جمہوریہ آئرلینڈ نے بھی اسرائیلی سفیر کو طلب کرلیا ۔ جبکہ فرانس نے واقعے میں اپنے ملک کے پا سپورٹ کے استعمال پر اسرائیل سے وضاحت طلب کی ہے