اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو دوسرے ملک پر طاقت کے ذریعے کنٹرول مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع پر اپنا موقف واضح کرنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کٹرا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: "ایران ایک آزاد ملک ہے۔ امریکہ نے اس پر حملہ کیا جو بالکل غلط ہے۔ کسی بھی دوسرے ملک پر حملہ کرنا درست نہیں۔ کسی ملک کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی اور ملک پر اپنا کنٹرول مسلط کرے۔ انہوں نے وینزویلا کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جو انتہائی افسوسناک ہے۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ جاری جنگ کے اثرات آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: "یہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ ایک بڑی عالمی جنگ حتیٰ کہ تیسری عالمی جنگ کی طرف بھی بڑھ سکتی ہے۔"
انہوں نے کہا: "یہ کسی بڑی چیز کی طرف لے جا سکتا ہے اور آخرکار تیسری عالمی جنگ بھی شروع ہو سکتی ہے۔ ہمیں اس بارے میں یقین سے کچھ معلوم نہیں۔" انہوں نے اس صورتحال کو ذمہ داری کے ساتھ سنبھالنے کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا۔
حالیہ حالات پر عوامی ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "مسلمانوں میں غصہ پایا جاتا ہے، لیکن احتجاج پرامن ہونا چاہیے۔" واضح رہے کہ جموں و کشمیر خاص کر وادی میں بھی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہرے دیکھنے کو ملے۔
آپ کا تبصرہ