اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے وزرائے خارجہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ کرانۂ باختری پر کنٹرول قائم کرنے کے حالیہ فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے آج جمعرات کو سعودی شہر جدہ میں ہنگامی اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔
یہ اجلاس فلسطینی حکومت کی درخواست پر بلایا گیا ہے تاکہ اسرائیل کے ان اقدامات پر غور کیا جا سکے جنہیں فلسطینی فریق نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس وزرائے خارجہ کی سطح پر ہوگا، جس کا مقصد رکن ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور ممکنہ مشترکہ اقدامات پر غور کرنا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتانیاهو کی کابینہ نے فروری میں کرانۂ باختری کی اراضی ضبط کرنے کے عمل کے آغاز کی منظوری دی۔ اسے 1967 کے بعد اس نوعیت کا پہلا بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
فلسطینی قیادت اور متعدد عرب و اسلامی ممالک نے اس فیصلے کو فلسطینی علاقوں کے الحاق کی جانب ایک خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس کے سیاسی اور قانونی نتائج سے خبردار کیا ہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ میں عرب ممالک کے سفارتی نمائندوں اور 80 سے زائد ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اس منصوبے کی سخت مذمت کی تھی، جس کے تحت فلسطینی اراضی پر قبضے کو باضابطہ شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ