اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے سابق غزہ رہنما نے ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کارروائی کے ذریعے مقبوضہ علاقوں میں سکیورٹی کے تصور کو چیلنج کیا اور مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر عالمی سطح پر مرکزی حیثیت دلائی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی نے نہ صرف اسرائیل کے داخلی سکیورٹی ڈھانچے کو متاثر کیا بلکہ بعض عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو بھی پیچیدگی سے دوچار کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 16 اکتوبر 2024 کو غزہ کے علاقے تل السلطان میں جھڑپوں کے دوران ایک عمارت کو ٹینکوں سے نشانہ بنایا گیا جہاں سنوار موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق وہ اپنے محافظ کے ہمراہ شدید جھڑپ کے بعد زخمی حالت میں اسی عمارت میں موجود رہے اور آخری لمحات تک مزاحمت کرتے رہے۔ بعد ازاں اسرائیلی حکام نے ڈی این اے اور دیگر شواہد کے ذریعے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل نے غزہ کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ اس کا مقصد حماس کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی واپسی ہے۔ بعد ازاں فریقین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی سے متعلق معاہدے کی خبریں سامنے آئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد سے متعلق باہمی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ