اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق چہلم امام حسین علیہ اسلام پر ہونے والے 2بم دھماکوں اور دہشت گردی کیخلاف ملک بھر میں مظاہرے کئے گئے جبکہ سندھ سوگ میں ڈوبا رہا ،شیعہ تنظیموں کی جانب سے ہڑتال کی اپیل پر کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند رہی ، تعلیمی ادارے بھی نہیں کھلے ،دفاتر میں حاضری بہت کم رہی ،مارکیٹیں،بیشتر بینک اورپیٹرول و سی این جی پمپ بھی بند رہے،جبکہ دن بھر رینجرز اور پولیس کا سڑکوں پر گشت جاری رہا۔
دوسری جانب شہداء کی تعداد 33ہوگئی اور زخمیوں کی مکمل تعداد 194ہے ، 14شہداء کی اجتماعی نماز جنازہ ملیر میں ادا کی گئی ،جس میں ہزاروں سوگواروں سمیت سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔شرکاء ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے.
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے بھی یوم سوگ میں پبلک ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا اعلان کیا تھا، جس کے باعث دن بھر شہر کی تمام سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نظر نہیں آئی۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد کے مطابق جمعہ کے روز بم دھماکوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے۔ جناح اسپتال کے ذرائع نے12، سول اسپتال نے3، لیاقت نیشنل اسپتال نے9، آغا خان نے2 اور ایدھی سہراب گوٹھ جعفر طیار کے ذرائع نے7 اموات کی تصدیق کی ہے۔ بم دھماکوں میں 194سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
چہلم امام حسین علیہ السلام کے دن کفن پوش عزاداران کی نماز عصر













