اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عالمی اتحادِ علمائے مقاومت کے سربراہ شیخ حمود نے ایران پر مسلط جنگوں، دباؤوں اور وسیع پیمانے پر پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ ان تمام تر دباؤوں کے باوجود، ایران استحکام اور ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا ہے۔
شیخ حمود نے حزب اللہ لبنان کی جانب سے ایران میں اسلامی انقلاب کی فتح کی سالگرہ کے موقع پر اسلامی انقلاب اور موجودہ دور کے چیلنجز کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ یہ سمینار صیدا شہر میں حضرت فاطمہ زہرا (س) کے مجمع میں منعقد ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے صہیونی ریاست کی جارحیت کے مقابلے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے اور ہمیشہ مظلوموں اور محروموں کا ساتھ دیا ہے۔
شیخ حمود نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے فتح انقلاب کے پہلے دن سے ہی مزاحمت اور فلسطینی قوم کی حمایت میں اول صف میں کھڑے رہنے کا ثبوت دیا ہے، جبکہ عربیت اور اسلام کے دعویدار کچھ حکومتیں صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر آمادہ ہیں۔
انہوں نے ایرانی عوام کے اسلامی انقلاب کے بعد تہران میں پہلے فلسطینی سفارت خانے کے افتتاح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے اسلامی جمہوریہ کی فلسطینی مقصد کے ساتھ عملی وابستگی کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 47 سال گزرنے کے بعد بھی اسلامی انقلاب کا راستہ اور اصول تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔
عالمی اتحادِ علمائے مقاومت کے سربراہ نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں اسلامی انقلاب کے عظیم رہنما کو بزرگ اور ممتاز اسلامی رہنما قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغرب کی اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو گرانے کی کوششیں ناممکن ہیں اور یہ نظام تمام تر چیلنجوں کے باوجود قائم و دائم رہے گا۔
آپ کا تبصرہ