انتہا پسند صہیونی وزیر خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں شامی صدر سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ'اگر کوئی اور جنگ لڑی گئی توآپ نہ صرف اس جنگ میں شکست سے دو چار ہوں گے بلکہ آپ اور آپ کا خاندان اقتدار سے بھی محروم ہو جائے گا'. اسرائیل کے سرکاری ریڈیو پر نشر کی جانے والی تقریر میں لائبرمین نے شامی صدر کے لئے کہا کہ 'انہیں ہمارا یہ پیغام سمجھ لینا چاہئے کیونکہ انہیں انسانی زندگی یا انسانی قدار میں کوئی دلچسپی نہیں. ان کے لئے صرف ایک قدر کو اہمیت حاصل ہے اور وہ اقتدار ہے اور اسی کو نشانہ بنایا جانا چاہئے'. اسرائیلی وزیر خارجہ نے یہ دھمکی آمیز بیان شام کے گذشتہ روز اسرائیل پر اس الزام کے بعد جاری کیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے نئی جنگ مسلط کی تو اس مرتبہ یہ اس کے شہروں تک پھیلا دی جائے گی.شام کی سرکاری نیوز ایجنسی نے شامی صدر بشار الاسد کے بیان کے حوالے سے کہا کہ 'تمام حقائق اس امر کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ اسرائیل خطے کو امن کے بجائے جنگ کی جانب لے کر جا رہا ہے'.انہوں نے یہ بات دمشق میں سپین کے وزیر خارجہ میگوئل اینجیل موراٹینوس کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی ہے.انہوں نے کہا کہ اسرائیل امن میں سنجیدہ نہیں ہے. موراٹینوس حال ہی میں اسرائیل کے دورے سے لوٹے ہیں. انہوں نے شامی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ اسرائیل جنگ چاہتا ہے. ہسپانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'میں اسرائیل سے آیا ہوں. میں نے وہاں کوئی طبل جنگ بجتا ہوا نہیں دیکھا بلکہ میں نے وہاں امن کے ڈھول پٹتے دیکھے ہیں'.شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے موراٹینوس کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'اسرائیل ایران، لبنان اور غزہ کی پٹی پر حملوں کی دھمکیاں دے کر جنگ کا ماحول پیدا کرنے کے بیج بو رہا ہے'.شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ 'میں اسرائیل سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ٹھگوں کی طرح کی حرکتیں چھوڑ دے'.ان کا کہنا تھا کہ'اسرائیلیوں نے ابھی شام کی طاقت کا مزہ نہیں چکھا. ان کو جان لینا چاہئے کہ اب جنگ کو آپ کے شہروں تک لے جایا جائے گا'.ولید المعلم نے اسرائیلیوں کو مخاطب ہو کر مزید کہا کہ 'حقیقت پسندی کی جانب لوٹ آئیں.امن کے راستے پر چلیں اور امن کے تقاضوں پر منصفانہ اور جامع انداز میں عمل درآمد کریں'.انہوں نے اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک کے گذشتہ سوموار کے ایک بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 'شام کے ساتھ کسی امن معاہدے کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہم زبردستی ایک ایسے تنازعے کا شکار ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک مکمل جنگ چھڑ سکتی ہے'.شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے خطے میں جنگ کے خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے.شامی وزیر خارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر ایسی کوئی جنگ ہوتی ہے اور یہ جنوبی لبنان یا شام پر ہی مسلط کی جاتی ہے تو یہ بعد میں پورے علاقے میں پھیل جائے گی'.
/110