17 اپریل 2010 - 19:30

پہلا بم دھماکہ عزاداروں سے بھری ایک بس کے راستے میں بارود سے لدے موٹر سائیکل کے ذریعے کیا گیا اور دوسرا دھماکہ اسپتال کے باہر کیا گیا جس میں متعدد عزاداران حسینی سمیت اسپتال کے عملے کے کئی افراد شہید اور زخمی ہوگئے ہیں.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے امن و امان کے قیام میں اپنی ناکامی چھپانے کے لئے دونوں دھماکوں کو خودکش ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ عاشورا کے روز خودکش ظاہر کئے جانے والا دھماکہ قرآن کی آیات کے لئے رکھے گئے ڈبے میں رکھے گئے بم کے ذریعے کیا گیا تھا.
جعفریہ علماء کونسل کے رکن علامہ سید حسن ظفر نقوی نے لاہور میں اپنے پریس کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے کراچی میں شہید ہونے والوں کے لئے 40 روز سوگ کا اعلان کیا اور کہا کہ عزاداری بند کرنے کی کوشش کرنے والوں کی تمام تر سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا.
انھوں نے سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ کی طرف سے شہیدوں کے خاندانوں کو 5 لاکھ روپے امداد کے اعلان پر عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم صرف ان خاندانوں کو ملتی ہے جن کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہو اور باقی شہیدوں کے خاندانوں کو ایک پائی بھی نہیں ملتی.
انھوں نے کہا: روز عاشور ہونے والے دھماکے میں 15 سنی برادران اور ایک عیسائی ہموطن بھی شہید ہوئے جن کے خاندانون کو کوئی رقم نہیں ملی.
انھوں نی کہا کہ کراچی سے لے کر پاراچنار تک پورا ملک اور پوری قوم متحد ہے اور یہ کہ امسال روز عاشور اور روز اربعین شیعہ اور سنی حتی کہ عیسائی دہشت گردی کا نشانہ بن گئے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا اصل نشانہ صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ وہ تمام پاکستانیوں کے دشمن ہیں.
دوسری طرف سے دھماکے کے بعد شیعہ علماء کونسل کے جناب شبر رضا نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم شہادت سے نہیں ڈرتے اور یہ ہماری میراث ہے اور عزاداری کو روکنے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائےی گی.
انھوں نے ایک ٹی وی چینل کے اس سوال کے جواب میں ـ کہ آپ ان دہشت گرد کاروائیوں کے بعد عزاداروں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ـ کہا: ہم نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی حفاظت کریں گے اور یہ موضوع تمام عزاداروں کو بھی معلوم ہے.
ٹی وی چینل کے نمائندے نی اپنا سوال دوبارہ دہرایا تو جناب شبر رضا نے کہا: اصولی طور پر آپ کا سوال ہی غلط ہے؛ عزاداران حسینی عزاداری کی نیت سے سڑکوں پر موجود ہیں اور انہیں اپنا مقصد بخوبی معلوم ہے چنانچہ ان کے لئے ہمارے پیغامات کی ضرورت نہیں ہوتی اور جان لیں کہ امام حسین علیہ السلام کے متوالوں کا یہ ہرگز مقصد نہیں ہے کہ وہ دہشت گردی کی کسی کاروائی کے بدلے لوگوں کے گھروں اور املاک گو نقصان پہنچائیں.

- کراچی حملوں کی لپیٹ میں

- کراچی میں دو بم دھماکے ،24 افراد جاں بحق

/ 110