پولیس نے مورو سندھ سے دو دہشت گردوں احسان اللہ اور اصغر سمیت دیگر گیارہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے ،پولیس کے مطابق تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ دہشت گرد چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر کراچی میں مرکزی جلوس پر حملہ کی منصوبہ بندی کر رہے تھے .
پولیس نے ان دہشت گردوں سے دس بم،اور اور بم بنانے کے آلات سمیت اسلحہ اور منافرت انگیز مواد جس کو فرقہ وارانہ مقاصد کے لئے استعمال کیا جانا تھا برآمد کر لیا ہے ،واضح رہے کہ گرفتار ہونے والے دہشت گرد صوبہ سرحد کی شمال مغربی سرحد سے آئے تھے۔
کراچی آنیوالے اسلحہ فروشوں کے کارندے کو گرفتار کرکے اسلحہ اور سیکڑوں گولیاں برآمد کرلیں۔
اسی طرح ایک اور جگہ سے ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل ملزم شیر الطاف کو شک کی بنا پر روکا اور اس کے سامان کی تلاشی لی تو اس میں سے ایک عدد روسی ساختہ آٹو میٹک رائفل (پش پشہ) 4/عدد 30بور پستول ایک عدد 9ایم ایم پستول ڈبل میگزین 30بور 230گولیاں 9ایم ایم کی 35گولیاں جبکہ 7.62بور کی 360 زندہ گولیاں برآمد ہوئیں۔
ملزم شیر الطاف نے ابتدائی تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ وہ اس سے قبل تین مرتبہ کراچی میں بھاری مقدار میں اسلحہ لاچکا ہے لیکن چوتھی مرتبہ پکڑا گیا۔ ملزم شیر الطاف چک نمبر L-21/14 تحصیل چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کا رہائشی ہے۔ یہ اسلحہ کراچی میں سپلائی کرنے کیلئے 1000روپے کے عوض اس کا بہنوئی فلک شیر جو فوج کا سابق حوالدار اور چک 552 گ ب ماموں کانجن فیصل آباد کا رہائشی ہے مردان سے بذریعہ بس چیچہ وطنی اور خانیوال لاکر دیتا تھا پھر بذریعہ ٹرین کراچی پہنچاتے تھے۔
ایس ایس پی مظفر شیخ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ملزم کو یہ اسلحہ ناگن چورنگی، لیاقت آباد شرافی گوٹھ بنارس میں مقیم خریداروں کو فراہم کرنا تھا
/152