17 اپریل 2010 - 19:30

ایروسپیس ٹیکنالوجی کے قومی دن کے موقع پر صدر اسلامی جمہوریہ ایران جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے ایروسپیس کے کئی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزرائے دفاع و مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی موجود تھے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اس تقریب میں "طلوع" نامی قومی سیارچے، قومی سیارچے "مصباح ـ 2" کے انجنئرنگ ماڈل، علم و صنعت کے سیارچے کے انجنئرنگ ماڈل، سیارچہ فضا میں منتقل کرنے والے راکٹ "سیمرغ" کے ابتدائی ماڈل، سیمرغ راکٹ کے انجن، سیارچوں سے موصولہ تصاویر کی پراسیسنگ مرکز اور تھری ڈی (سہ جہتی) تجربہ گاہ کی رونمائی ہوئی۔
طلوع سیارے کا بنیادی مقصد 50 میٹر ریزالوشن کے ساتھ سنگل سپیکٹرل (Single spectral) فوٹو گرافی اور زمینی اسٹیشنوں کو تصویری ڈیٹا ارسال کرنا ہے۔
اس سیارچے سے موصولہ اطلاعات زمین کی نقشہ برداری، دریائی اور سمندری تالابوں کا جائزہ لینے، انسانی وسائل کی تخریب کا مشاہدہ کرنے، زرعی و جنگلی علوم کا جائزہ لینے اور ان جیسے دیگر امور کے لئے مفید ہوسکتی ہیں۔
یہ سیارچہ نچلے مدار کے لئے ہے اور زمین سے 500 کلومیٹر کی فاصلے پر دائرے کی شکل میں گردش کرے گا اور اس کی مفید عمر دو سال ہوگی۔
اس سیارچے کا ایندھن اس کی باڈی پر نصب شمسی توانائی کے لئے لگے آلات اور سیکنڈری بیٹریوں سے حاصل ہوتا ہے۔
مصباح ـ 2 نامی سیارچہ مواصلاتی ہے جو یو ایچ ایف بینڈ پر کام کرتا ہے۔ اس سیارچے کا مقصد اطلاعات ذخیرہ کرنا، بازیابی کرنا، وسیع علاقوں میں ڈیٹا نشر کرنا اور طویل فاصلے سے ڈیٹا ریڈنگ اور نیوی گیشن ہے۔ مصباح ـ 2 کو ارتقاء دینے کا مقصد فنی علوم، تجزیہ اور مقامی طور پر سیٹلائٹ پلاننگ اور مینوفیکچرنگ کو ممکن بنانا، زمین کے قریبی خلا میں سیارچہ بھیج کر خلا پر دسترس حاصل کرنا، ایران کے دور افتادہ علاقوں کے صارفین سمیت دنیا کے دیگر علاقوں کے ساتھ رابطہ ممکن بنانا ہے۔
نوید علم و صنعت نام سیارچہ ملک کے اکیڈمک حلقوں سے تعلق رکھتا ہے جو مقامی طور پر تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد 750 میٹر وضوح کے ساتھ زمین کی تصویربرداری ہے۔
سیارچہ فضا میں منتقل کرنے والے راکٹ "سیمرغ" کے ابتدائی ماڈل کی ابتدائی منصوبہ بندی ایران میں ہوئی اور یہ ماڈل ایران میں ہی تیار کیا گیا جس کے اوپر جدید اور پیشرفتہ انجن نصب کیا جاسکتا ہے جو مائع ایندھن سے استفادہ کرسکے گا۔ یہ راکٹ 100 کلوگرام وزنی سیارچہ 500 کلومیٹر کے فاصلے پر خلا میں چھوڑ سکتا ہے۔
سیمرغ راکٹ کا انجن، چار 32 ٹن وزنی انجنوں سے تشکیل پایا ہے اور یہ انجن مستقبل میں نئے بننے والے زیادہ طاقتور راکٹوں میں بھی استعمال ہوسکتا ہے۔
یہ انجن سات سو کلوگرام وزنی سیارچہ زمین سے ایک ہزار کلومیٹر دور کے خلا میں چھوڑ سکتا ہے۔
اس تقریب میں صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے قومی سیارچے "طلوع"، قومی سیارچے "مصباح"، اکیڈمک سیارچے "نوید علم و صنعت" اور خلائی ٹیکنالوجی کے قومی دن کی مناسبت سے چھپنے والے ڈاک ٹکٹوں کی رونمائی کا بھی اہتمام کیا۔
صدر اسلامی جمہوریہ نے ایروسپیس اور مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی کارکردگی کے نمونوں کا بھی معائنہ کیا۔

 /110