تل ابیب غزہ میں لبنان ماڈل دہرانا چاہتا ہے:فلسطینی تجزیہ کار
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایک فلسطینی تجزیہ کار نے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں شدت اور جاری نسل کشی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب غزہ میں وہی حکمتِ عملی نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس نے جنوبی لبنان میں اختیار کی تھی۔
اتوار کے روز خبر رساں ایجنسی شهاب کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فلسطینی تجزیہ کار ماجد الزبدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری حالات واضح طور پر اس امر کو ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل بغیر کسی سیاسی یا سکیورٹی قیمت ادا کیے، اپنی نسل کش جنگ کو مسلسل جاری رکھنے کے اصول کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تل ابیب خود کو مکمل آزادی دینے کے درپے ہے تاکہ اندھا دھند بمباری، فضائی حملوں اور شہریوں کے قتلِ عام کو بلا روک ٹوک جاری رکھا جا سکے، بالکل اسی طرح جیسے جنوبی لبنان میں کیا گیا۔ اس کا مقصد فلسطینی مزاحمت کے خلاف اپنی نام نہاد “نظریۂ بازدارندگی” کو تقویت دینا ہے۔
ماجد الزبدہ نے زور دیا کہ اسرائیلی حملوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق قابض قوت ایک ایسا توازن قائم کرنا چاہتی ہے جس میں فلسطینی شہریوں پر مسلسل بمباری ہو، مگر فلسطینیوں کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہ آئے، یوں جنگ بندی کو بے معنی بنا کر اسے جارحیت کے پردے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی مزاحمت اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر وہ مسلسل تباہی پر خاموش رہتی ہے تو اسرائیلی حکومت کا مقصد، یعنی جنگ کو لامحدود مدت تک جاری رکھنا، پورا ہو جاتا ہے۔ اور اگر مزاحمت جواب دیتی ہے تو اسرائیل کی جانب سے مزید کشیدگی، نیز امریکی اور بعض عرب دباؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
فلسطینی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ موجودہ مرحلے پر ایک بات بالکل واضح ہے کہ جب تک بنیامین نیتن یاہو اقتدار میں موجود ہیں، غزہ میں امن اور استحکام کا کوئی امکان نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی رژیم نے حماس کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کو جواز بنا کر غزہ پر شدید حملے کیے، جن کے نتیجے میں مزید فلسطینی شہری شہید ہو گئے۔
آپ کا تبصرہ