بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سورہ نمل میں بھی بعض دیگر سورتوں کی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بعض دوسرے انبیائے الٰہی کے حالات کو بیان کیا کیا ہے؛ تاکہ ہم سبق لیں اور اپنی دنیا اور آخرت کی زندگی تعمیر کر لیں۔

ان آیات کریمہ میں بیان ہؤا ہے کہ اللہ نے تاریخ کے سب سے طاقتور متاثر کن معجزات موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے تاکہ اپنی قوم ـ بنی اسرائیل ـ اور فرعونیوں کی راہنمائی کریں، لیکن ان معجزات نے کوئی اثر نہیں دکھایا۔۔ فرعونیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ساحر قرار دیا اور بنی اسرائیل بھی تاریخ کی ظالم ترین اور ناشکر ترین قوم ٹہرے۔
البتہ اس سورت میں خدائے متعال موسیٰ اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی داستانوں سے قبل، کچھ نکات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بعدازاں موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت اور نبوت کے رتبے پر فائز ہونے کا واقعہ بیان کرتا ہے۔
خدا کے ہاں با ایمان اور بے ایمان شخص کی حیثیت
آیات 1 تا 4:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
طس تِلْكَ آَيَاتُ الْقُرْآَنِ وَكِتَابٍ مُبِينٍ (1) هُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ (2) الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآَخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (3) إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآَخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ (4)
اس اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے
طا۔ سین، یہ ہیں آیتیں قرآن اور ایک روشن کتاب کی (1)
راہنمائی اور خوش خبری ان ایمان لانے والوں کے لئے ہے (2)
جو نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور دور آخرت پر یقین رکھتے ہیں (3)
بلاشبہ وہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ہم نے ان کے کاموں کو ان کے لئے آراستہ کر رکھا ہے تو وہ اندھے پن میں مبتلا ہیں (4)
خدائے متعال فرماتا ہے کہ یہ کتاب واضح و روشن کردینے والی ہے جو ان مؤمنین کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ "ہم ان کے برے اعمال کو ان کی زینت قرار دیتا ہیں، اور وہ زمین میں سرگردان ہوتے ہیں اور اندھے پن اور تعطل سے دوچار ہوجاتے ہیں، جہاں آگے جانے کا راستہ ہوتا ہے نہ ہی پلٹنے کا راستہ۔
زیادہ تر بے ایمان لوگ، خوشحال کیوں ہیں؟
یہ سوال آپ نے بھی شاید زیادہ ہی پوچھا ہے کہ، زیادہ تر بے ایمان لوگ، دنیاوی زندگی میں خوشحال کیوں ہوتے ہیں اور کوئی عذاب ان پر نازل نہیں ہوتا، اور اللہ بعد کی آیات میں جواب دیتا ہے:
"أُولَئِكَ الَّذِينَ لَهُمْ سُوءُ الْعَذَابِ وَهُمْ فِي الْآَخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ؛ (5) "وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآَنَ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ (6)
یہ وہ ہیں جن کے لئے بڑا عذاب ہے اور وہ آخرت میں بڑا گھاٹا اٹھانے والے ہیں * اور بلاشبہ یہ قرآن آپ کو سکھایا جاتا ہے ایک بڑے حکمت والے، صاحب علم کی طرف سے۔"
یعنی جو مجھ [اللہ] پر ایمان نہیں لاتا ہم اس کو اسی راستے پر آگے کی طرف دھکیل دیتے ہیں جس پر کہ وہ گامزن ہے اور اس کے برے اور انحرافی اعمال کو اس کے لئے آراستہ کرتے ہیں تاکہ وہ مزید اپنے کاموں کے انجام سے فکرمند ہی نہ ہو اور اپنے غلط راستے پر گامزن رہے اور یہی گمان کرتا رہے کہ اس کا کام صحیح ہے!
بے ایمان افراد کا انجام
ان آیات میں ان افراد کی سزا کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں بہت بڑا گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔ وہ دنیا میں اپنے برے اعمال نیک اعمال کے طور پر متعارف کرواتے تھے، لیکن اللہ کے ہاں ان اعمال کا حساب کتاب موجود ہے اور آخرت میں شدید اور دردناک عذاب ان کا انتظار کر رہا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کا آغاز
بعد کی آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے حساس ترین لمحات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جب وہ نبوت پر مبعوث ہوئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو سردی سے بچانے کے لئے دور سے دکھائی دینے والی آگ کی طرف روانہ ہوکر پہاڑ پر چڑھتے ہیں اور وہاں سے وحی کی ندا سن لیتے ہیں:
آیات 7 اور 8:
"إِذْ قَالَ مُوسَى لِأَهْلِهِ إِنِّي آَنَسْتُ نَارًا سَآَتِيكُمْ مِنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ آَتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ (7) فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ؛ (8)
جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے ایک آگ محسوس کی ہے تو ابھی میں تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبر لاتا ہوں یا تمہارے لئے آگ کا ایک لوکا لاتا ہوں کہ تم تاپ سکو * تو جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا دی گئی کہ برکت والا (قائم و دائم) ہے وہ جس کا جلوہ آگ میں ہے اور جس کا جلوہ اس کے ارد گرد ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔"
موسیٰؑ نے ایک درخت کو دیکھا جو آگ کے شعلوں میں نہيں جل رہا تھا اور اس کی سبز ٹہنیوں سے سفید روشنی اٹھ رہی تھی، اور وہ درخت زیادہ خوبصورت اور نورانی ہو رہا تھا۔"
موسیٰؑ کا ندائے حق سن لینا
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جو ندا موسیٰؑ نے سن لی وہ اللہ کی طرف سے تھی جہاں اللہ نے اپنا کلام آشکار کر دیا اور موسیٰؑ کی سماعتوں تک پہنچایا۔
[مروی ہے کہ] اس موقع موسیٰؑ نے آگ اور وہ عجیب درخت دیکھ کر اور اللہ کی ندا سن کر خائف ہوئے؛ لیکن اسی موقع پر ندا آئی اور انہیں رسالت کی بشارت دی اور کہا: میں تمہارا پروردگار ہوں، موسیٰؑ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کے معجزات اور عنایات کے جلوے ہیں۔
ندائے حق سن کر موسیٰؑ کو یقین آ گیا
ندا آئی کہ اے موسیٰؑ میں خدائے عزیز و حکیم ہوں:
"يَا مُوسَى إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ؛ (9)
اے موسیٰ! یقینا میں اللہ ہوں جو عزت والا، بڑی سمجھ بوجھ والا ہے۔"
یہ واضح نہیں تھا کہ یہ ندا کس سمت سے آ رہی ہے، اور تمام اطراف سے یکسان طور پر موسیٰؑ تک پہنچ رہی تھی اور ان کی روح و جان پر بیٹھ رہی تھی۔ یہاں موسیٰؑ کا شک و تردد دور ہوگیا اور یقین تک پہنچے کہ یہ ندا خدائے متعال کی طرف سے ہے۔
موسیٰؑ کو دو معجزے عطا ہوئے
آیات 10 اور 11:
"وَأَلْقِ عَصَاكَ فَلَمَّا رَآَهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّى مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ يَا مُوسَى لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ؛ (10) إِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ؛ (11)
اور اپنے عصا کو پھینکو تو جب اسے دیکھا کہ وہ حرکت کر رہا ہے کہ وہ ایک سانپ ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر مڑے اور پھر نہیں پلٹے اے موسیٰ ! ڈرو نہیں میں وہ ہوں کہ میرے پاس پیغمبروں کو ڈر نہیں ہوتا * سوا اس کے جو کوئی تجاوز کرے۔ پھر برائی کو اچھائی سے تبدیل کرے تو بلاشبہ میں بخشنے والا مہربان ہوں"۔
اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی موسیٰؑ کو دو عظیم معجزات عطا فرمائے؛ ایک "عصا" تھا اور دوسرا "یَدِ بیضا"۔ موسیٰؑ نے عصا پھینک دیا اور وہ ایک بڑا سانپ بن گیا اور موسیٰؑ خوفزدہ ہوئے، ندا آئی کہ "ڈرو مت، کیونکہ میرے بھیجے ہوئے پیغمبر میرے محفوظ اور پرامن حریم میں نہیں ڈرا کرتے، سوا ان لوگوں کے جو حد سے تجاز رکتے ہیں۔۔۔
نو معجزات جو ہٹ دھرم قوم کی ہدایت کا باعث نہ بن سکے
بعدازاں، موسیٰؑ کو ید بیضا کا معجزہ عطا ہؤا اور اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لئے صرف یہی دو معجزے [عصا اور بد بیضا] ہی نہیں ہیں بلکہ تمہیں 9 معجزے عطا ہوتے ہیں تاکہ انہیں لے کر فرعون کی طرف جائیں اور اس اور اس کی قوم کی ہدایت کی کوشش کریں:
آیات 12 اور 12:
"وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ فِي تِسْعِ آَيَاتٍ إِلَى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ (12) فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آَيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ؛ (13)
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو تو وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی برائی کے نو معجزوں میں، انہیں لے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف جاؤ، یقینا وہ بداعمال لوگ رہے ہیں * تو جب ہماری روشن نشانیاں ان کے پاس آئیں تو انھوں نے کہا یہ کھلا ہوا جادو ہے۔"
یعنی یہ کہ تاریخ انبیاء کے قوی ترین معجزات حضرت موسیٰؑ کو عطا ہوئے لیکن ان لوگوں نے نہ صرف اللہ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا بلکہ موسیٰؑ پر سحر و جادو کا الزام تک لگایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
ان آیات کی تلاوت دیکھئے اور سنئے:
آپ کا تبصرہ