26 جنوری 2026 - 15:12
سامراجی و صہیونی دہشت گردی کے سامنے نازی مظالم بھی ہیچ ہوچکے، ایک دن ہر ظلم ختم ہوگا، علامہ ساجد علی نقوی

انسانیت نے غزہ کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی، علامہ ساجد علی نقوی

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں سامراجی اور صہیونی دہشت گردی کے سامنے تاریخ میں نازیوں کا غیر انسانی رویہ بھی ہیچ ہوچکا ہے۔ ہولوکاسٹ ایک قبیح فعل تھا جس پر بعض تاریخی اعتراضات بھی موجود ہیں، مگر غزہ، بیت المقدس، مغربی کنارہ، لبنان اور شام میں ہونے والے مظالم نہ صرف دستاویزی حقائق ہیں بلکہ عالمی امن کے منہ پر زور دار طمانچہ بھی ہیں۔

انہوں نے یہ بات ہولوکاسٹ کے متاثرین کی یادداشت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی۔ علامہ ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ بنیادی اصول یہ ہے کہ ظلم جہاں بھی ہو، ظلم ہی ہوتا ہے۔ تاریخ میں نازیوں کا رویہ غیر انسانی تھا، تاہم ہولوکاسٹ کے حوالے سے مختلف سوالات اور اعتراضات بھی اٹھائے گئے، اس کے باوجود عالمی سطح پر اس معاملے پر تنقید تک کو محدود کر دیا گیا۔

قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ اس کے برعکس غزہ، بیت المقدس، مغربی کنارے، خان یونس، لبنان اور شام میں جو کچھ ہوا، وہ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کی لاشیں، بھوک و پیاس، بے یارو مددگار اور بے گھر انسان، ہر طرف تباہی اور کھنڈرات سامراجی و صہیونی دہشت گردی، درندگی اور شیطانیت کے ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہولوکاسٹ کے حوالے سے تاریخی شواہد کو مٹانے یا خفیہ رکھنے کے دعوے سامنے آتے رہے، مگر غزہ سے بیروت اور بیت المقدس سے دمشق تک ہونے والے مظالم دن کی روشنی میں پوری دنیا کے سامنے آئے۔ عالمی میڈیا رپورٹس اور غزہ ملین مارچ اس کے گواہ ہیں۔

علامہ ساجد علی نقوی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دنیا بھر میں انسانیت نے غزہ کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی، مگر اقوام عالم کے حکمران یا تو مردہ ضمیر ہوچکے ہیں یا اپنے مفادات کی نذر ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں اور بعض طاقتور ممالک کی مجرمانہ خاموشی کے باعث آج ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے نام پر ایک نئے کھیل کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ یہ ظلم ہمیشہ نہیں رہے گا، وہ دن دور نہیں جب دنیا سے ہر ظلم کا خاتمہ ہوگا اور ہر ظالم کو اپنے اعمال کا حساب دینا پڑے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha