17 اپریل 2010 - 19:30

مصر کی الازہر یونیورسٹی کے تحقیقاتی مرکز نے "مجمع فقہی" کے سابقہ فیصلے کی بنیاد پر مصری اور عرب ٹیلی ویژن چینلز سے یوسف (ع) کے قرآنی قصے کی بنیاد پر بننے والی سیریل فلم کی نمائش پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جامعہ الازہر کے تحقیقاتی مرکز کے رکن «رأفت عثمان» نے اس مطالبے کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا: مجمع فقہی نے قبل ازیں انبیاء اور اہل بیت نبی علیہم السلام کی تجسید (اور ان کی تصویر) کی ممانعت کا فیصلہ کیا تھا اور چونکہ اس سیریل فلم میں حضرت یوسف علیہ السلام کے چہرے کی تصویر کشی کی گئی ہے لہذا یہ سیریل فلم الازہر کے فیصلے کے خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے. انھوں نے مجمع فقہی کے نمائندے کی حیثیت سے تحقیقاتی مرکز اور مجمع فقہی کے فیصلے پر اصرار کرتے ہوئے کہا: انبیاء علیہم السلام کا چہرہ سینما، تھئیٹر اور ٹیلی ویژن پر دکھانا ناقابل قبول ہے اور اس سیریل کی نمائش پر پابندی لگنی چاہئے. دوسری طرف سے مصر کے شیعہ مفکر «ڈاکٹر احمد راسم النفيس» نے الازہر کی رائے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: یہ سیریل فلم ایران میں بنی ہے اور الازہر کو اس کے بارے میں فیصلہ سنانے کا اختیار حاصل نہیں ہے. انھوں نے کہا: یہ سیریل فلم ایران کے شرعی اور مذہبی مراکز کی رائے کے مطابق بنائی گئی ہے اور اس فلم کے اداکاروں اور ہدایت کاروں پر الازہر کے فتؤوں کی پابندی لازم نہیں ہے. قابل ذکر ہے کہ حضرت یوسف (ع) کی سیریل فلم ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن (صدا و سیما) میں بنی ہے جس کا عربی ترجمہ "یوسف الصدیق" کے نام سے عرب ممالک میں نشر ہورہا ہے. یادرہے کہ اس سیریل فلم کا اسلامی دنیا سمیت عرب عوام کے درمیان بھی زبردست پذیرائی ہوئی ہے اور اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے عربی پیج کو موصول ہونے والے بے شمار کامینٹس میں اس کو اس سیریل فلم کو وسیع سطح پر سراہا جارہا ہے اور فلم کی ہدایتکار سے درخواست کی جارہی ہے کہ دیگر انبیاء عظام (ع) کے بارے میں بھی فلم بنائیں.