24 جنوری 2026 - 17:29
فارین پالیسی: رضا پہلوی کے 50 ہزار فوجیوں کے جھوٹے دعوے نے ایرانیوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا

امریکی جریدے فارین پالیسی نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ رضا پہلوی اپنے دعوے پورے نہ کر کے خود کو مزید غیر معتبر ثابت کر رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی مجلے فارین پالیسی نے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ رضا پہلوی اپنے وعدوں کی عدم تکمیل کے باعث دن بہ دن اپنی ساکھ کھو رہے ہیں۔

رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ رضا پہلوی نے گزشتہ سال دعویٰ کیا تھا کہ 50 ہزار ایرانی فوجی اہلکار ان کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ دعویٰ محض ایک تشہیری ڈرامہ تھا۔

فارین پالیسی کے مطابق، جب امریکی ٹی وی نیٹ ورک سی بی ایس کے میزبان نے رضا پہلوی سے وہ سوال کیا جو اندرون و بیرون ملک بہت سے ایرانیوں کے ذہن میں تھا کہ آیا وہ لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں یا نہیں، تو انہوں نے تکبر اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ ’’یہ جنگ ہے اور اس میں جانی نقصان ہوتا ہے۔‘‘

تاہم رپورٹ میں ایک سادہ اور منصفانہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ وہ 50 ہزار فوجی اہلکار کہاں تھے جن کے بارے میں رضا پہلوی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں؟

مجلے نے مزید لکھا ہے کہ مدد کے وعدے کرنا لیکن عملی طور پر اس پر عمل نہ ہونا، خواہ یہ وعدے رضا پہلوی کی جانب سے ہوں یا ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے، طویل المدت عدم اعتماد کو جنم دے سکتا ہے۔

فارین پالیسی کے مطابق، اس ہفتے ایران سے باہر آنے والے ایک شخص نے بتایا کہ بہت سے لوگ ٹرمپ کے بیانات پر بھروسا کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلے، مگر اب ان کی ابتدائی امید مایوسی اور غصے میں تبدیل ہو چکی ہے۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha