ٹونی بلیئر نے یہ بات لندن کانفرنس سینٹر میں عراق جنگ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہی۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی سربراہی میں عراق پر حملے کا مقصد صدام حکومت کی تبدیلی نہیں تھا ۔ امریکا میں گیارہ ستمبر کے حملوں تک صدام حسین ایک خطرہ ضرور تھے لیکن حملوں نے اس خطرے کی سنگینی میں ڈرامائی طور پر اضافہ کردیا تھا ۔ نیو یارک اور واشنگٹن پر حملوں کے بعد مغربی ممالک یہ خطرہ مزید برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے کہ صدام حسین بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا پروگرام دوبارہ شروع کردیں ۔ اس بات کا بھی خطرہ تھا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں سے زیادہ مہلک اور زیادہ تباہ کن حملہ ہوسکتا ہے ۔ ٹونی بلیئر کی کانفرنس سینٹر آمد کے موقع پر اسٹاپ وار کولیشن نے ان کے خلاف مظاہرہ بھی کیا ۔ عراق میں ہلاک ہونے والے179 برطانوی فوجیوں کے اہل خانہ نے بھی مظاہرے میں شرکت کی ،مظاہرے کی وجہ سے سابق وزیر اعظم کو پچھلے دروازے سے اندر جانا پڑا ۔ مظاہرین نے ٹونی بلئیر کے خلاف نعرے لگائے اور انہیں جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف جنگی جرائم کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ۔
17 اپریل 2010 - 19:30
News ID: 177269
سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ عراق کے خلاف جنگ اس لئے کی گئی کیونکہ صدام حسین نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے متعلق تضحیک آمیز رویہ اختیار کررکھا تھا ۔