امریکہ نے ہیٹی کے عوام کوامداد بہم پہنچانے کے بعد ہیٹی میں بارہ ہزار فوج تعینات کرنے کا اعلان کردیاہے اوراس وقت امریکی فوج نے ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ اوپرنس کے ہوائی اڈے کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے ۔ امریکہ کے اس طرح کے موقع پرستانہ اقدامات کودیکھتے ہوئے لاطینی امریکہ کے بعض ملکوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ نیکارآگوا کے صدرڈینیل اوٹیگانے کہا ہے کہ امریکہ ہیٹی کے ہولناک زلزلے کی صورت حال سے فائدہ اٹھا کراس ملک میں اپنی فوج تعینات کرنا چاہتا ہے انھوں نے کہا کہ ہیٹی میں امریکی فوج کی تعیناتی بہت ہی تشویشناک ہے کیونکہ امریکی فوج نے فوجی طریقے سے پورٹ اوپرنس کا سولین ہوائی اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے ۔ نیکاراگوا کے صدرنے ہیٹی میں امریکی فوج کی اس طرح کی تعیناتی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسالگتا ہے کہ لاطینی امریکہ میں امریکی فوج کے جتنے بھی اڈے ہیں وہ واشنگٹن کے لئے ابھی کافی نہيں ہيں چنانچہ واشنگٹن ہیٹی کے عوام پرپڑنے والے ناگہانی مصائب وآلام سے فائدہ اٹھا کراس ملک میں بھی اپنی فوج تعینات کرنا چاہتا ہے ۔ونزوئیلا کے صدر ہوگوچاوز نے بھی ہیٹی میں امریکی افواج کی موجودگی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے فوجی قبضے سے تعبیر کیا ہے ہوگوچاوز نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا ہیٹی میں جنگ شروع ہوگئی ہے کہ تم نے مسلح امریکی فوجی اور میرین وہاں بھیجنے شروع کردیئے ہیں۔برازیل کے وزير دفاع نلسن جابیم نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکہ امدادرسانی کے بہانے ہیٹی میں یکطرفہ کاروائي شروع کرنا چاہتا ہے ۔لاطینی امریکہ کے ممالک امریکی ماضي سے آگاہ ہیں اس لئے وہ ہیٹی میں امریکہ کی فوجی موجودگي کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں کیونکہ امریکہ نے سن دوہزار دو میں بھی ہیٹی کے سیاسی بحران پر قابو پانے کے بہانے ہزاروں کی تعداد میں اپنے فوجی اس ملک میں بھیجے جسکا نتیجہ اس وقت کے ہیٹی کے صدر کے اغوا اور جنوبی افریقہ ملک بدر ہونے کی صورت میں سامنے آیا ۔لاطینی امریکہ کے ممالک کی طرف سے امریکہ کے حالیہ اقدامات پر اعتراضات کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ فرانس بھی میدان میں آگیا ہے ۔ہیٹی انیسویں صدی میں فرانس کی کالونی رہا ہے اور یہاں کے عوام فرانسیسی زبان بولتے ہیں اور فرانس کا اس ملک میں ابھی تک نمایاں اثر نفوذ ہے ۔ فرانس کے میدان میں آنے سے امریکہ اور فرانس کے درمیان طاقت کی جنگ کا آغاز ہوگیا ہے اور دونوں ملکوں کی خواہش ہے کہ ہیٹی کےمسائل اس کی زیر نگرانی انجام پائیں۔فرانس کے عالمی تعاون کے وزير ایلن جو پاندہ نے تو کھلم کھلا کہا ہے کہ زلزلے سے لیکر ابھی تک امریکہ نے ہیٹی کے دارالحکومت کے ہوائي اڈے پر باقاعدہ قبضہ کررکھا ہے اور ہر آنے جانے والے کو باقاعدہ کنٹرول کیا جارہا ہے ۔لاطینی امریکہ کے ممالک کے بعد فرانس کا اعتراض اس جانب اشارہ کررہا ہے کہ یہ ممالک امریکہ کے آئندہ کے ارادوں سے پریشان ہیں کیونکہ امریکہ کا تاریک ماضی اس بات کا شاہد ہے کہ وہ جس ملک میں گیا وہاں سے آسانی سے باہر نہیں آیا۔جاپان، جرمنی اور جنوبی کوریا کی مثالیں سب کے سامنے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کو ختم ہوئے نصف صدی سے زيادہ کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن امریکی فوجی ابھی تک اس ملک میں موجود ہیں ۔ تازہ ترین مثالیں عراق اور افغانستان کی ہیں امریکہ عراق اور افغانستان میں جمہوریت کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے بہانے داخل ہوا تھا اب جبکہ ان ممالک کے حکام اور شہری پکار پکار کر امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن امریکی حکام اپنے قیام کے جواز کے لئے نئے نئے بہانے تلاش کررہے ہیں ۔لاطینی امریکہ کے ممالک امریکی فوجی وجود سے اس لئے پریشان ہیں کہ امریکہ اس علاقے پر اپنا مکمل تسلط قائم کرنا چاہتا ہے ۔اس وقت بھی اس علاقے میں امریکہ کے دسیوں فوجی اڈے موجود ہیں لیکن امریکہ اپنی تسلط پسندانہ پالیسی کے تحت فوجی اڈوں میں اضافے کا خواہشمند ہے ۔کلمبیا میں بھی فوجی اڈوں میں اضافے کے موضوع پر علاقائی ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگي عروج پر ہے امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ وہ کلمبیا کے فوجی اڈے کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ پر کنٹرول کرنا چاہتا ہے جبکہ امریکی پالیسیوں سے آگاہ ممالک کے حکام اور تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ علاقے پر اپنی بالادستی کے لئے یہ سب کچھ کررہا ہے ایک ایسے وقت جب امریکی فوج کا جنگي بحری بیڑا لاطینی امریکہ میں اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہے ہیٹی میں مزيد بارہ ہزار فوجیوں کی تعیناتی علاقے کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتی ہے ۔سویت یونین کے خاتمے اور بالخصوص گیارہ ستمبر کے مشکوک واقعات کے بعد امریکہ کی جنگ پسندانہ اور تسلط پسندانہ پالیسیوں میں تیزي آگئی ہے وہ تمام تر مخالفتوں اور اعتراض کے دنیا پر ایک قطبی نظام قائم کرنے پر لگ گیا۔ امریکہ ایک ایسے عالمی نظام کو دنیا پر نافذ کرنا چاہتا ہے جس کی تمام تر باگ و ڈور واشنگٹن کے ہاتھ میں ہو، امریکہ اس ہدف کے حصول کے لئے دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی فوجی موجودگي اور اقتصادی دباؤ کو بروئے کار لارہا ہے ۔ لاطینی امریکہ کے کئی ممالک گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں انہوں نے نہ صرف آپس میں اتحاد قائم کرنا شروع کردیا ہے بلکہ امریکہ مخالف ملکوں سے بھی اپنے سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعاون میں اضافہ کردیا ہے دوسری طرف روس بھی آہستہ آہستہ اپنی کھوئی ہوئي طاقت کو بحال کرنے میں کامیاب ہورہا ہے ایسے میں امریکہ کی افغانستان ، عراق اور ایران کے حوالے سے مسلسل ناکامیاں امریکی بالادستی کے خواب کو چکنا چور کررہی ہیں ۔امریکہ ایشیا کے ساتھ مشرق وسطی میں بھی بری طرح ناکام ہورہا ہے جنگي دھمکیوں اور اقتصادی لالچ کے باوجود امریکہ کے حصّے میں نفرتوں کے علاوہ کچھ نہیں آرہا ۔بش کے بعد اوباما کے تبدیلی کے نعرے سے کچھ لوگوں کو یہ گمان ہونے لگا تھا کہ شاید امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں لاکر امریکہ اپنی ساکھ کو بہتر بنانا چاہتا ہے لیکن افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ، عراق میں انخلا کے ٹائم ٹیبل پر تشویش ، لاطینی امریکہ کے ملکوں کے خلاف معاندانہ رویہ اور بعض ہمسایہ ملکوں میں فوجی موجودگي میں اضافہ اس بات کا غماز ہے کہ امریکہ کی پالیسیوں میں کوئي تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہ پہلے کی طرح تسلط پسندانہ اور جنگ پسندانہ پالیسیوں پر گامزن ہے ۔عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی حالیہ پالیسیوں سے امریکہ کے خلاف نفرتوں میں اضافہ تو ہوسکتا ہے کمی نہیں ۔
17 اپریل 2010 - 19:30
News ID: 176576
ایک ایسے وقت جب ہیٹی کے عوام شدید زلزلے کی تباہکاریوں کی وجہ سے سخت صدمے میں ڈوبے ہوئے ہيں اورابھی بھی لاکھوں افراد تباہ شدہ عمارتوں اورمکانات کے ملبوں کےنیچے سے اپنے پیاروں کی لاشوں کوتلاش کررہے ہيں اور جو لاشیں مل گئی ہيں ان کی تعداد دولاکھ تک بتائی جارہی ہے جبکہ انھیں دفنانے یا پھر ان کی آخری رسومات اداکرنے کے لئے ان کے پاس وسائل تک نہيں ہيں امریکہ اس افسوسناک صورت حال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی فکر میں ہے!